خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 127
خطابات شوری جلد دوئم ۱۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء قوت ہے کہ جس سے جماعت دشمنوں کو زیر کر سکتی ہے اور خود ترقی بھی کر سکتی ہے۔ہزاروں بار میرے دل میں یہ حسرت پیدا ہوئی کہ کونسا طریق ہو جس سے جماعت کو مادی اور مغربی رنگ سے بچایا جائے مگر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی حتی کہ وہ وقت آگیا جب خدا تعالیٰ نے مجھے یہ سکیم بتا دی تا کہ جماعت اُس پر عمل کر کے آہستہ آہستہ اس ڈھنگ پر آجائے جو اس کے لئے ضروری ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مستقل طور پر اس پر چلتی جائے اور جماعت کا ایک طبقہ ایسا ہو جو اس سکیم کی روح کو سمجھتا ہو اور یقین رکھتا ہو کہ صحیح ہے۔بعض لوگ تو منافقانہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں مگر بعض ایسے ہیں جنہوں نے اس کی اہمیت نہیں سمجھی۔میں اُن سے جو اس کو سمجھتے ہیں مگر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے کہتا ہوں کہ اگر اُس روح کے ساتھ اس کی طرف بڑھیں جس سے یہ پیش کی گئی ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ اس میں وہ مسائل موجود ہیں جن کا اسلام کے دوبارہ احیاء سے تعلق ہے اور وہ یقیناً اس سے ایسا مادہ نکال لیں گے جو ان کی روح کی تازگی کا باعث ہوگا اور جماعت کی ترقی کا میں نے انیسواں مطالبہ جماعت سے یہ کیا ہے کہ دعائیں کریں۔دعا ئیں تو پہلے بھی کرتے تھے، اب جو کہا گیا تو سوچنا چاہئے کہ کوئی نئی دعا کہی گئی ہے۔اگر نہیں تو اس مطالبہ کو حقیقی اور ضروری نہیں سمجھا جا سکتا۔دراصل دعا ان چیزوں کے جزو کے طور پر رکھی گئی تھی رسماً نہ تھی۔ان تحریکوں کے بعض حصے ایسے بھی ہیں جن پر اور لوگ بھی عمل کر رہے ہیں مگر ہم نے جو عمل کیا اُس میں اور دوسروں کے عمل میں فرق ہے، ہم نے خدا تعالیٰ کے لئے کیا مگر وہ مادیات کے لئے کرتے ہیں۔پس دعا رسمی بات نہ تھی بلکہ ایک کو نہ تھا جسے خالی رکھنے سے چور آ سکتا تھا۔جب تک ہم یہ کام کرتے وقت یہ نہ سمجھیں کہ خدا کے لئے کر رہے ہیں اور اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک خدا تعالیٰ مدد نہ کرے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تحریک جدید پر زیادہ غور کریں اس طرح مالی وقتیں بھی دور ہوسکتی ہیں۔جب ہم کھانا سادہ کر لیں گے اور سادہ زندگی بسر کریں گے تو