خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 111
خطابات شوری جلد دوئم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء یوں جماعت اخلاص اور قربانی میں ترقی کر رہی ہے۔گومنافق بھی بڑھ رہے ہیں اور منافق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت بھی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا ذکر کیا ہے مگر اُس وقت وہ نمایاں نہ تھے کیونکہ قربانی اُس وقت ایسی معمولی تھی کہ جو مخلص کرتا تھا وہ منافق بھی کر دیتا تھا اب جو زیادہ قربانی کا وقت آیا تو منافق گرنے لگے اور مخلص قربانی اور ایثار میں بڑھتے گئے۔یہ امتیاز جو اب نظر آ رہا ہے اس لئے نہیں کہ پہلے منافق نہ تھے اور آب ہو گئے ہیں بلکہ اس لئے ہے کہ پہلے منافقوں اور مومنوں میں امتیاز کا ایسا طریق نہ تھا۔قرآن نے منافقوں کا نقشہ یوں کھینچا ہے کہ مجوں جوں روشنی ہوتی جاتی ہے وہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔مدینہ میں جب شروع شروع میں مسلمان آئے تو امن نظر آتا تھا اس لئے منافقوں کا پتہ نہ لگا مگر بعد میں جب ظلم شروع ہو ا تب انہوں نے محسوس کیا کہ امن نہیں ہوا۔سارا عرب دشمن ہے، بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اُس وقت منافقت ظاہر ہوتی گئی۔جوں جوں لڑائیاں بڑھتی گئیں منافقت ظاہر ہوتی گئی۔بدر کی جنگ کے وقت کم منافقت ظاہر ہوئی مگر تبوک کی جنگ میں منافقوں کا پردہ بالکل ہٹ گیا۔غرض ربانی سلسلوں میں احتیاط کی جاتی ہے کہ صحیح وقت دیکھا جائے جب منافقوں کو مومنوں سے الگ کر دیا جائے۔پس یہ دو نقطہ ہائے نگاہ ہیں۔دُنیوی نقطہ نگاہ پر غور کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر احمدی روحانی پہلو لیتا ہے۔مگر روحانی نقطہ نگاہ کے بھی دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ آیا وہ وقت آ گیا ہے جب منافقوں کو الگ کر دیں یا یہ کہ درمیانی راہ اختیار کریں تا کہ وہ بھی بچ جائیں اور کام بھی چلایا جا سکے۔دوست رائے دیتے وقت اس بات کو مدنظر رکھیں کہ وہ کو نسے نقطہ نگاہ کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں۔پھر انہیں کام کرنے کے لئے روشنی مل جائے گی۔میں نے دوستوں کے سامنے یہ بات کھول کر رکھ دی ہے۔میرا طریق عمل تحریک جدید سے ظاہر ہے۔میں جماعت کو اس طرف لا رہا ہوں کہ وہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ جو دین کے لئے قربانی کرنا چاہے وہ آگے آجائے اور جو نہ کرنا چاہے وہ پیچھے رہ جائے۔اسی وجہ