خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 110

خطابات شوری جلد دوئم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کی درستی کے لئے نہیں آتے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ اپنی اور مسلمانوں کی دُنیوی حالت درست کریں۔اس قسم کے لوگ جھڑ جائیں گے۔بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ منافق اُسے کہتے ہیں جو بغیر صداقت کو سمجھے اسے قبول کرنے کا اقرار کریں گویا منافقت کی حالت میں داخل ہوئے ہیں۔مگر قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ بعض لوگ پہلے مومن ہوتے ہیں مگر بعد میں منافق ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہ کی قربانیوں کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا تھا کہ ان کا ایمان پردہ میں ہے؟ گو اُن میں اُس وقت بھی کمزوریاں تھیں مگر کمزوریاں مومنوں میں بھی ہوتی ہیں۔ہاں کمزور مومنوں اور منافقوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ مومن کی کمزوری روز بروز کم ہوتی جاتی ہے اور طاقت بڑھتی جاتی ہے لیکن منافق کی کمزوری بڑھتی جاتی ہے اور اخلاص کم ہوتا جاتا ہے یعنی مومن مضبوط ہوتا جاتا ہے اور منافق کمزور۔مومن جب تک کامل اخلاص تک نہ پہنچ جائیں ان سے ربانی سلوک کیا جاتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تین مہینے میں اگر کوئی ایک پیسہ بھی چندہ دیتا ہے تو وہ احمدی ہے مگر اب ایک آنہ فی روپیہ ماہوار چندہ ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی جماعت پہلے کونپل ہو گی اور پھر ترقی کرتی جائے گی۔گویا وہ قربانیوں میں بڑھ جائے گی اور مضبوط ہو جائے گی۔یہ نہیں کہ حضرت مسیح کی جماعت پہلے زیادہ ہوگی اور بعد میں کم ہو جائے گی بلکہ یہ جو فرمایا کہ پہلے کمزور ہوگی بعد میں مضبوط ہو جائے گی، اس سے ایمانی کمزوری مراد ہے۔کوئی کہے پہلے مخلصین کی اس میں ہتک تو نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وقت تھے؟ مگر نہیں۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض میں جو اخلاص تھا وہ بعد میں آنے والوں میں پیدا نہ ہو جیسا کہ فرمایا ؎ ممکن چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہے ایسے اخلاص والے نہ ہوں لیکن وہ ممتاز ہستیاں جو جماعت کے لئے عمود و ستون تھیں وہ چند ہی تھیں۔ممکن ہے ان کی مثال زمانہ پیدا کرنے سے قاصر رہے مگر