خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 112
خطابات شوری جلد دوئم ۱۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء سے بعض لوگوں کی طرف سے تحریک جدید کی مخالفت کی جاتی ہے کیونکہ منافق سمجھتا ہے کہ اُس کے لئے موت آ رہی ہے۔اُس کے چہرہ سے نقاب اُتر جائے گا اور وہ نمایاں ہو جائے گا۔اس کے بعد میں آٹھویں تجویز کو لیتا ہوں جو یہ ہے:۔جو انجمن مندرجہ ذیل ذمہ داری کو اپنے اوپر لینے کے لئے تیار ہو وہ اپنی جماعت کے افراد سے مشورہ کرنے کے بعد اپنے آپ کو پیش کرے کہ وہ اپنے مشخصہ بجٹ کو ہر صورت میں پورا کرے گی اور نادہندگان کے حصہ کو بھی باقی افراد انجمن پورا کریں گے۔گزشتہ مجلس مشاورت کے موقع پر چوہدری صاحب نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ چندہ جماعت کے افراد پر تشخیص ہو مگر ادائیگی کی ذمہ وار ساری جماعت ہو۔اگر کچھ لوگ شستی کریں اور اپنا چندہ ادا نہ کریں تو باقی افراد جماعت کا فرض ہوگا کہ تشخیص شُدہ چندہ ادا کریں۔اس طرح مقامی کارکنوں کو کام کرنے کی طرف بھی توجہ ہوگی کہ اگر بعض لوگوں نے چندہ نہ دیا تو وہ بھی باقیوں کو دینا پڑے گا۔اس طرح وہ زیادہ سرگرمی سے کام کریں گے اور ساری جماعت کے لوگ سُست لوگوں سے چندہ وصول کرنے کی کوشش کریں گے۔اب سب کمیٹی نے اس تجویز کو اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ اسے لازم نہ قرار دیا جائے بلکہ جو جو جماعتیں خود اپنے لئے واجب کرنا چاہیں کر لیں کہ اگر ان کا مشخصہ چندہ پورا نہ ہو تو باقی چندہ دینے والے اسے پورا کر دیں گے۔اس طرح یہ جبری نہیں بلکہ طوعی تحریک ہو گئی۔آمد بڑھانے کی تجاویز جماعت کی آمد بڑھانے اور بجٹ پورا کرنے کے سلسلہ میں ممبران نے مختلف تجاویز پیش کیں ان پر بحث کے بعد حضور نے فرمایا: - جہاں تک میں سمجھتا ہوں تجاویز ختم ہو گئی ہیں۔میں نے ان تجاویز پر غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سب کمیٹی نے حالات پر کافی حد تک غور کیا ہے اور جو تجاویز پیش کی ہیں وہ عملی اور مفید بھی ہیں لیکن جہاں تک میرا خیال ہے عملی نقطہ نگاہ سے بہت سے وقتیں