خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 96

خطابات شوری جلد دوم ۹۶ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء آؤ اس نیت اور اس ارادہ سے دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سب خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیں۔اسلام اور قرآن کی جو عظمت ہے کیا اس کے مقابلہ میں ہماری جانیں اور مال کچھ بھی عزت رکھتے ہیں؟ اگر قرآن کریم کی ایک زیر یا ایک زبر مٹنے لگے اور اس کے بچانے کے لئے ہم اپنی جانیں اور اپنے مال اور اولا د قربان کر دیں تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے کوئی بڑی قربانی کی۔پھر اس وقت جب کہ سارا قرآن ہی خطرہ میں ہے، سارا اسلام ہی چُور چُور ہو رہا ہے تم سمجھ سکتے ہو ہمارے لئے کس کوشش کی ضرورت ہے۔سو آؤ ہم پوری طرح عہد کر لیں کہ اب ہم سستی کی گھڑی اپنے پر آنے نہ دیں گے۔اپنی جانوں اور اپنے مالوں اور اپنی اولادوں اور اپنی عزتوں کو بے دریغ اس کے لئے قربان کرتے چلے جائیں گے اور دُنیا کے آنے والے تغیر کا سورج دو باتوں میں سے ایک ہی دیکھے گا یا تو ہماری اور ہماری اولادوں کی لاشوں کو اور یا پھر وسیع اُفق سے اسلام کے فتح کی خوشی میں اُڑتے ہوئے جھنڈے کو۔اے خدا! تو ہمیں اس عہد کے باندھنے اور پھر اس کے نباہنے کی توفیق دے۔اے اسلام کے بھیجنے والے! تُو ہی ہمارے دل کا اخلاص بن جا اور ہمارے بازؤوں کی طاقت ہو جا کہ تیرے بغیر ہم کچھ نہیں اور تیرے ساتھ ہم سب ہی کچھ ہیں۔اللَّهُمَّ امِینَ۔“ " ( مطبوعہ رپورٹ مجلس مشاورت اپریل ۱۹۳۶ء) ا محمد : ۳۲ تا ۳۹ الحديد: ۱۷ مسلم کتاب الایمان باب بيان حكم عمل الكافر (الخ) السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۱۶۰۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۵ سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحہ ۱۰۰۔۱۰۱۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء المائدة: ۲۵ الوصیت صفحه ۲۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۲۱ مسلم كتاب البر والصلة باب فضل الضُّعَفَاء (الخ) تذکرہ صفحه ۵۳۹۔ایڈیشن چہارم ا ال عمران : ااا