خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 95
خطابات شوری جلد دوم ۹۵ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء ترقی اور عروج دیکھ سکیں۔ہم تو بڑا اعلیٰ مقصد لے کر کھڑے ہوئے ہیں ادنی ادنی باتوں کے لئے لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرتے رہتے ہیں۔گزشتہ جنگ عظیم کے دوران میں ایک موقع پر انگریزی کیبنٹ مشورہ کر رہی تھی کہ فلاں محاذ پر گولہ بارود کی جو کمی ہے اس کے متعلق کیا کیا جائے۔اس لئے وزراء مشورہ کر رہے تھے کہ لارڈ ینگ کمانڈر انچیف افواج کا تار وزیر اعظم کو ملا کہ اب آخری وقت آن پہنچا ہے، جرمنی نے پورے زور سے آخری حملہ کر دیا ہے اور آپ کی امداد کا وقت نہیں رہا، اب آخری اور فیصلہ کن جنگ ہو رہی ہے۔مسٹر لائڈ جارج نے جو اُس وقت وزیر اعظم تھے جب یہ تار پڑھا تو دوسرے وزراء سے مخاطب ہو کر کہا کہ دوستو! تدبیروں کا وقت جاتا رہا، اس وقت ہماری فوج دیوار سے پیٹھ لگائے ( یہ انگریزی محاورہ ہے آخری جد وجہد کے متعلق ) مقابلہ کر رہی ہے اب سوائے خدا کے ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا، آؤ اس سے التجاء کریں اور یہ کہہ کر وہ گھٹنوں کے بل گر کر دعا میں مشغول ہو گئے۔یہ وہ لوگ ہیں جو د ہر یہ کہلاتے ہیں اور جن کا خدا تعالیٰ پر نہایت ہی قلیل ایمان ہے۔ہمارے لئے اس سے زیادہ خطرناک وقت اور کون سا آ سکتا ہے۔ایمان سے زیادہ قیمتی چیز اور کیا ہوسکتی ہے۔دشمن اس پر حملہ آور ہو رہا ہے اور تمام طاقتیں مل کر حملہ کر رہی ہیں۔حکام میں سے بھی بعض ان سے مل گئے ہیں اور رعایا میں سے بھی ، عیسائی بھی سکھ بھی، ہندو بھی ، امراء بھی اور غرباء بھی، بڑے بھی اور چھوٹے بھی، پیشہ ور بھی اور علم والے بھی ، کالجوں کے طالب علم بھی اور مدرسوں کے لڑکے بھی۔آؤ خدا تعالیٰ کے حضور گر جائیں غرض سب نے مل کر اس چھوٹی سی جماعت پر حملہ کر دیا ہے۔اب خدا کے نام پر آؤ ہم بھی خدا تعالیٰ کے حضور گر جائیں اور کہیں الہی ! جو کچھ ہم کر سکتے تھے وہ ہم نے کیا مگر ہمارے ہاتھ ٹوٹ چکے ہیں اور ہماری طاقتیں شل ہو گئی ہیں۔اے خدا تو ہی ہماری مدد کر۔ہم جو کچھ کر سکتے ہیں اُس کے لئے تو ہی توفیق دے اور ہماری مدد فرما کیونکہ تیرے سوا اور کوئی طاقت نہیں جو ہمیں مدد دے سکے۔پس تو آسمان سے فرشتے ہماری مدد کے لئے بھیج۔ہم بے کس اور بے قوی ہیں لیکن ہماری ذمہ داری بہت بڑی ہے، ہم کمزور اور ناطاقت ہیں لیکن کام بہت مشکل ہے تو ہی ہماری مدد کر کہ تیرے سوا کوئی مدد کرنے والا نہیں۔