خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 90

خطابات شوری جلد دوم ۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء گے اور اللہ کے رستہ سے روکیں گے اور رسول سے اختلاف کریں گے بعد اس کے کہ ہدایت ظاہر ہو گئی اس سے وہ لوگ بھی مراد ہیں جو منکر ہیں مگر وہ بھی ہیں جو جماعت میں داخل ہو گئے مگر عملی طور پر انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو نیک اعمال سے روکتے ہیں۔کہتے ہیں یونہی روپیہ ضائع کیا جا رہا ہے۔کیوں خرچ کرتے ہو؟ اس سے کیا فائدہ ہے؟ غرض ایسے لوگ بھی مراد ہیں جنہوں نے ایمان لا کر عملی رنگ میں کفر کیا وہ لوگ لَن يَضُرُّوا الله شيئًا۔اللہ تعالیٰ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچاسکیں گے اور اُس کی جماعت کا وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔وہ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ایک شخص کے متعلق اعلان کرایا گیا تو سُنا ہے اُس نے کہا میں یہ کروں گا وہ کروں گا مگر اس کے ایک بھائی نے لکھا کہ ہمیں اس کی علیحدگی کی کوئی پرواہ نہیں اور ہم اسے کچھ وقعت نہیں دیتے۔غرض ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے نکلنے سے سلسلہ کو نقصان ہوگا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ غلط ہے ان کا اپنا ہی نقصان ہوگا۔عبداللہ بن ابی بن سلول کے متعلق جب اُس کے بیٹے کو معلوم ہوا کہ اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی کی ہے۔تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر اسے سزا دینی ہو تو مجھے حکم دیا جائے۔میں خود اسے سزا دوں گا تا کہ کسی اور کے سزا دینے سے شیطان مجھے نہ ورغلائے۔تو فرمایا وَ سَيُخيطُ اعْمَالَهُمْ۔اللہ ان کے اعمال گرا دے گا۔بعض لوگ نیکیاں کرتے ہیں وہ قائم نہیں رہتیں کیونکہ بعد میں وہ ایسے اعمال کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے نیکیاں گر جاتی ہیں۔فرمایا یہ طریق بالکل غلط ہے کہ کچھ اعمال کرنے کے بعد جب بدلہ ملنے کا وقت آئے تو بیہودہ حرکت کر دیتے ہیں اور اپنے پہلے عمل یونہی ضائع کر دیتے ہیں۔اے مومنو! تمہارا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو مگر یاد رکھو کبھی انکار کر کے ساری اطاعت کو ہی نہ بگاڑ لینا۔دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑی بڑی خدمات کے بعد اجر سے محروم رہ جاتے ہیں جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک کا تب وحی تھا جو مرتد ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں بعض لوگ بڑے اخلاص کا اظہار کرتے تھے مگر بعد میں مرتد ہو گئے۔غیر مبائعین کو ہی دیکھ لو۔پہلے ان کی حالت اچھی تھی مگر جب انہوں نے ٹھو کر کھائی تو وہی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو