خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 85

۸۵ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء دیا کہ امیر لوگ صدقہ نہیں دیتے۔میں اُن سے مانگ کر لاتا ہوں اور دوسروں کو دے دیتا ہوں تا کہ وہ دعا دیں اور اس صدقہ کا ثواب ان امراء کو پہنچے اور وہ عذاب سے بچ جائیں۔جب میں نے ریز روفنڈ قائم کیا تھا تو کہا تھا اپنے غیر احمدی دوستوں، رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں سے چندہ لے کر دیا جائے۔جماعت کی ایک کافی رقم دوسروں پر خرچ ہوتی ہے اور دوسری اقوام کی تحریک میں ہم ہمیشہ حصہ لیتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے احباب اُن سے امداد طلب نہ کریں۔ہر شخص کے کچھ نہ کچھ دوست ہوتے ہیں۔اگر وہ دیانتداری سے اپنے واقفوں اور دوستوں سے ریز روفنڈ جمع کرے تو یقیناً ہر احمدی ایک دو روپیہ سے لے کر ایک دو ہزار روپیہ سال تک چندہ جمع کر سکتا ہے۔اور اگر سب احمدیوں کی اوسط وصولی پانچ پانچ روپے بھی رکھی جائے اور دس ہزار مرد و عورت یہ کام کریں تو آسانی سے پچاس ہزار سالانہ رقم جمع کی جاسکتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر دوست اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو اس طرح ایک لاکھ روپیہ سالانہ سے بھی زائد وہ جمع کر سکتے ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ دوست اس طرف توجہ نہیں کرتے۔مجھے یقین ہے کہ اس فنڈ کے قائم ہونے سے عظیم الشان نتائج دینی بھی اور دنیوی بھی پیدا ہو سکتے ہیں یعنی ثواب کا ثواب اور ملک کی اصلاح الگ۔اگر اس فنڈ سے غرباء کی بے روزگاری بھی دور کرنے کی کوشش کی جائے تو ہم ایک مستقل یادگار قائم کر سکتے ہیں۔پس یہ ایک ایسی تجویز ہے کہ جس پر ہر ایک عمل کر سکتا ہے یعنی کچھ نہ کچھ رقم جمع کر سکتا ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو کچھ بھی جمع نہ کرے گا۔اگر فرض کر لو کہ کسی کا کوئی بھی دوست نہ ہو تو وہ واقفوں اور آشناؤں سے مانگ سکتا ہے۔اگر فرض کرو گو یہ پہلے سے زیادہ ناممکن ہے کہ اس کا کوئی واقف بھی نہ ہو تو وہ سڑک پر کھڑا ہو کر یا ریل میں مسافروں سے سوال کر کے کچھ رقم جمع کر سکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ اس تحریک میں حصہ نہیں لیتے ، اس لئے نہیں لیتے کہ ان کے نفس مرے ہوئے نہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں فقیر نہیں بننا چاہتے۔اس وقت تک اس فنڈ میں جو رقم جمع ہوئی ہے اس میں سب سے زیادہ حصہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ہے مگر ان کی کوشش میں بھی دو سال سے کمی آگئی ہے۔میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ چاہے وہ کسی درجہ کے ہوں اس فنڈ کے جمع کرنے