خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 84
خطابات شوری جلد دوم ۸۴ کام کروں گا ورنہ نہیں بہت نقصان رساں ہے۔بریکاروں کو کام پر لگائیں مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اپنے ہاں جا کر بے کارلوگوں کو کام پر لگانے کی کوشش کریں۔خواہ کسی کام سے کتنی ہی کم آمدنی ہو۔کتابوں اور اخبارات کی ایجنسیاں قائم کی جائیں اور اپنی اپنی جماعت کے متعلق اس قسم کے نقشے بھجوائے جائیں کہ کتنے لوگ بے کار ہیں اور کتنے لوگوں کو کسی نہ کسی کام پر لگایا گیا ہے۔بے کار خواہ کتنے ہی معمولی کام پر اپنے آپ کو لگا دیں اِس سے انہیں آگے چل کر بہت فائدہ ہوگا۔ان کے اندر کام کرنے کی اتنی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ دوسرا اس کا اندازہ نہیں کر سکے گا اور اس کے شاندار نتائج نکلیں گے۔مہمان خانہ کی وسعت میں احباب حصہ لیں (۹)۔نویں بات یہ ہے کہ مہمان خانہ کی تنگی کی وجہ سے مہمانوں کو دوسرے مکانوں میں ٹھہرانا پڑتا ہے اور اس کے متعلق منتظمین کو شکایت ہے کہ زیادہ ملازم رکھنے پڑتے ہیں اور باوجود اس کے کہ خرچ زیادہ کیا جاتا ہے پھر بھی مہمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے اسلئے کوشش کی گئی ہے کہ مہمان خانہ کا ایک حصہ بنالیا جائے تاکہ مہمان وہاں ٹھہریں۔اس کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جس کے خرچ کا اندازہ ۸ ہزار ہے۔بابوسراج الدین صاحب نے جو مخلص احمدی ہیں اور صیغہ ضیافت میں آنریری کام کرتے ہیں اس میں ایک ہزار روپیہ دیا ہے۔باقی خرچ کے متعلق میں تحریک کرتا ہوں کہ جو دوست حصہ لے سکتے ہیں وہ لیں۔(۱۰)۔دسویں بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں بہت اہم ہے مگر ریز روفنڈ کا قیام افسوس ابھی تک اس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔اگر احباب پوری طرح اس کی طرف توجہ کریں تو اس کے فوائد یقینی ہیں ، مالی ہی نہیں بلکہ تبلیغی بھی ، وہ ریز روفنڈ کا قیام ہے۔مجلس مشاورت میں جب میں نے اس کے لئے تحریک کی تو ایک دوست نے کہا کہ ایک لاکھ روپیہ میں جمع کر کے دوں گا لیکن جہاں تک میرا خیال ہے اُس کی طرف سے پانچ روپے بھی نہیں پہنچے۔ایک بزرگ کے متعلق حضرت خلیفہ اول سناتے کہ وہ امراء کے گھروں میں جاتے اور اُن سے مانگ کر کچھ نہ کچھ رقم لے آتے ، پھر وہ لوگوں کو دے دیتے۔کسی نے کہا آپ اس طرح بلا ضرورت کیوں مانگتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب