خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 49
خطابات شوری جلد اوّل ۴۹ مشاورت ۱۹۲۳ء (۲) دُعا بغیر عمل کے قبول نہیں ہوتی جب تک انسان اس کے لئے سامان نہ کرے۔اگر انسان کو خواہش ہوتی ہے تو سامان کرتا ہے اگر سامان نہیں کرتا تو دُعا کرنا غلط ہے۔یہ دھوکا ہے کہ خدا سے اس بات کی دُعا مانگی جائے جس کے لئے خود کچھ تیاری نہ کی جائے اور ظاہر نہ کیا جائے کہ جس کام میں خدا سے دُعا مانگتا ہے اس کا محتاج ہے۔(۳) جولوگ مشورہ کے لئے اُٹھیں یہ نیت کریں کہ جو بات وہ کہتے ہیں وہ دین کے لئے مفید ہوگی یا یہ کہ جس بات کے لئے مشورہ کیا جاتا ہے کون سی بات دین کے لئے مفید ہوگی۔(۴) جو مشورہ دیں وہ آپ کا ہو۔کسی کی خاطر مشورہ نہ دیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مشاورت بھی ہو اور آپ مشورہ طلب کریں تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے علم کے مطابق مشورہ دیں۔ہاں آپ کو یہ حق تھا کہ ہمارے مشورہ کو رڈ کر دیں۔پس جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھی مشورہ دیا جا سکتا ہے تو خلیفہ کی مجلس میں بدرجہ اولی دیا جا سکتا ہے۔میرے نزدیک جو بچے طور پر خلیفہ ہے اُس کا فرض ہے کہ وہ مشورہ سُنے اور جو بات خواہ وہ کسی کی ہو اُس کو قبول کرے۔یہ نہیں کہ وہ پہلے سے فیصلہ کرے کہ یونہی کرنا ہے بلکہ اس کی یہ حالت ہونی چاہئے کہ وہ اس ارادے سے بیٹھے کہ جو مشورہ ہوگا وہ درست ہوگا۔اگر درست ہو تو مان لے ورنہ رڈ کر دے۔جب تک یہ حالت نہ ہوخطرہ ہے کہ لوگوں میں منافقت پیدا ہو جائے۔خلیفہ کی رائے کے لئے رائے دینا اُس سے غداری ہے اور خدا سے بھی غداری ہے۔(۵) حکمتوں کے ماتحت رائے نہ دیں کہ اگر اس رائے کو مان لیا جائے تو یہ نتیجہ نکلے گا بلکہ یہ بتائیں کہ اس کا نتیجہ اس وقت کیا ہوگا۔بعض لوگ ایک کام کو مفید سمجھتے ہیں مگر اس کی مخالفت اس لئے کرتے ہیں کہ فلاں شخص اس کام کا انچارج ہو گا گو کام مفید ہے لیکن وہ شخص درست نہیں ان کے ذہن میں اس لئے وہ اس کام کی ہی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ یہ درست نہیں۔بجائے اس کے چاہئے یہ کہ وہ اس کام کی تائید کریں اگر مفید ہے۔اور جب انچارج کا سوال پیدا ہو تو اُس کی مخالفت کریں۔(1) جو بات بھی کچی معلوم ہو اُس کو قبول کرنا چاہئے خواہ دشمن کی طرف سے ہو۔(۷) کبھی رائے قائم کرتے ہوئے جلد بازی نہ کرنا چاہئے۔رائے دینے سے پہلے بات کے