خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 48
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۴۸ مشاورت ۱۹۲۳ء ان سے رتبہ اور درجہ کم تھا مگر ایک بات میں وہ اُن سے بڑھا ہوا تھا یعنی اس نے غیر ممالک کو دیکھا ہوا تھا اس لئے فن کی واقفیت تھی۔پس جو لوگ فن سے واقف ہوں اُن کی رائے سے بہت سے کام درست ہو جاتے ہیں۔ایسے اوقات میں اخلاص کام نہیں آتا بلکہ فن سے واقفیت کام دیتی ہے۔پس ضروری ہے کہ مجلس مشاورت میں ہر مذاق اور ہر ایک فن کے لوگ داخل ہوں۔علاوہ اس کے لوگوں میں یہ بات داخل کر دی جائے کہ اخلاص کے ساتھ فن کی واقفیت بھی پیدا کریں اس لئے ضرورت ہے کہ مجلس مشاورت میں ماہرینِ فن بھی آئیں۔ان میں ایسے بھی ہوں جو اپنے دستخط بھی کرنا نہیں جانتے لیکن وہ اپنے علاقہ میں ایسا اثر اور رسُوخ رکھتے ہوں کہ اپنے علاقہ میں کام کے متعلق جوش پیدا کرسکیں اور لوگوں میں جوش نہیں پھیل سکتا جب تک علاقہ کے ذی اثر لوگ اس مجلس میں داخل نہ ہوں۔لیکن چونکہ مشورہ عام ہوتا ہے اس میں داخل ہونے والے بعض بطور مشغلہ کے بھی آتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ نمائندے الگ ہوں اور دوسرے الگ۔پس جو نمائندہ ہے وہ مشورہ دے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے طریق سے ثابت ہے کہ آپ مجالس مشورہ میں سب کی بات نہیں مانا کرتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ اپنے امیر سے کہو کیونکہ اگر امراء اور نمائندوں کی رائے نہ لی جائے تو مشورہ کی غرض باطل ہو جاتی ہے۔مشورہ کی اہمیت بتانے کے بعد وہ نصائح سُناتا ہوں جو میں نے پچھلے سال بھی مجلس مشاورت کے وقت بیان کی تھیں۔میں ان کو رپورٹ سے پڑھ کر سناتا ہوں کہ مشورہ میں یاد رہیں اور مشورہ دینے والوں کا قدم جادہ اعتدال سے باہر نہ ہو۔(1) ہم لوگ یہاں کسی دنیاوی بادشاہت اور حکومت کی تلاش کے لئے جمع نہیں ہوئے ، نہ عہدوں کے لئے اور نہ شہرت کے لئے آئے ہیں ہم میں سے اکثر وہ ہیں جن کا آنا ان کے لئے مشکلات بھی رکھتا ہے۔مخالف ان پر جنسی اُڑاتے اور اعتراض کرتے ہیں۔پس ان کا یہاں آنا خدا کے لئے ہے اس لئے ضروری ہے کہ سب احباب ان نصائح پر عمل ریں۔اپنے عمل کو ضائع ہونے سے بچائیں اور دعائیں کریں، اخلاص سے مشورہ دیں، درد کے ساتھ مشورہ دیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مشورہ میں برکت ڈالے۔