خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 50

خطابات شوریٰ جلد اوّل مشاورت ۱۹۲۳ء مَالَهُ اور مَا عَلَيْهِ پر غور کر لینا چاہئے۔ساتھ ہی یہ بھی دیکھو کہ جو تم بول رہے ہو وہ درست ہے۔یہ مت سمجھو چونکہ دوسرے کہتے ہیں اس لئے درست ہے۔سوچنے کے یہ معنے نہیں کہ دوسروں کی بات کا موازنہ نہ کرو۔(۸) جب رائے قائم کرو تو یہ مت خیال کرو کہ جو تم نے رائے قائم کی ہے وہ بے خطا ہے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو اپنی رائے پر ہی عمل کرنا اور کرانا چاہتے ہیں یہ غلط ہے۔اگر ان کی رائے کے خلاف فیصلہ ہو تو چاہئے کہ اپنی رائے کو قربان کر دیں۔(۹) ہمیشہ واقعات کو مدنظر رکھیں احساسات کو مدنظر نہ رکھیں۔بعض لوگ ہوشیار ہوتے ہیں کہ سنجیدہ معاملات میں بھی احساسات کو اُبھار کر واقعات پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔(۱۰) بعض دفعہ دین و دنیا ٹکرا جاتے ہیں ایسی حالت میں دُنیا کو قربان کر دینا چاہئے۔(۱۱) ہمیشہ یہی خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہماری تجاویز غلط نہ ہوں بلکہ چاہئے یہ کہ سوچا جائے کہ نہ صرف یہ کہ ہماری تجاویز غلط نہ ہوں بلکہ یہ کہ ہماری تجاویز ان سے بڑھی ہوئی ہوں ، جن سے مقابلہ ہے۔بخارا کے علماء کے متعلق آتا ہے کہ جب روس نے ان پر چڑھائی کی تو وہ اپنے تیرو تفنگ لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے گئے اور خیال کیا کہ ان ہتھیاروں سے دشمن کا مقابلہ کر لیں گے۔مگر جب دشمن نے تو پوں سے کام لیا تو علماء سحر سحر کہتے ہوئے پیچھے کو دوڑے۔پس نہ صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری تجاویز درست ہیں بلکہ یہ بھی کہ اس کے مقابلہ میں بڑھی رہیں۔(۱۲) رائے دیتے ہوئے اس قسم کے معاملات پر بحث کرنا کہ اس کے لئے مثلاً پانچ سو روپیہ کی ضرورت ہے یا سوا پانچ سو کی ، اس پر بحث کرنا درست نہیں۔ڈاکٹر دوائی دیتے ہیں۔ایک دوائی تجویز کرے کہ ایک گرین دینی چاہئے اور دوسرا ڈاکٹر سوا گرین۔اور اس پر بحث کریں تو ان کی یہ بحث لا حاصل ہوگی۔کیونکہ کوئی ایسا پیمانہ نہیں جو بتا سکے کہ ایک اور سو اگرین میں سے کسی بیماری کی حالت میں کتنی مفید ہوگی۔بہر حال دونوں میں سے ایک کی رائے اور قیاس کو تسلیم کرنا چاہئے۔(۱۳) سوائے نئی بات بیان کرنے کے محض کسی ایک بات کے دُہرانے کے لئے کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ طرز بیان کا