خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page vii
(iii) ضروری امور سر انجام پاتے رہے۔تاہم باقاعدہ نظام شورای کا قیام ۱۹۲۲ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ذریعہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متضر عانہ دعاؤں کو جو آپ نے منشاء اٹھی کے مطابق سفر ہوشیار پور میں چلہ کشی کے دوران کی تھیں اُن کو پایہ قبولیت بخشتے ہوئے آپ کو پسر موعود کی مہتم بالشان پیش خبری سے نوازا تھا جسے آپ نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں شائع فرمایا۔اس موعود بیٹے کی علامات میں یہ شامل تھا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا ، علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا، قو میں اس سے برکت پائیں گی۔حضرت مصلح موعودؓ کے وجود میں وہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی اور آپ کی ذہانت و فطانت، آپ کے علوم ظاہری و باطنی ، آپ کی فکری فراست اور آپ کے وجود سے قوموں کے برکت پانے کا ایک اظہار جماعت احمدیہ میں نظام شورای کے با قاعدہ نظام کے قیام اور ان مواقع پر کئے جانے والے ولولہ انگیز اور پُر معارف خطابات سے ہوتا ہے جن کے ذریعہ آپ نے نظام جماعت ، نظام خلافت، اور نظام شورای کو نہ صرف مضبوط فرمایا بلکہ آئندہ زمانہ کے لئے جہاں منصوبہ بندی فرما دی وہاں آئندہ وقت کے لئے راہنما اصول بھی بیان فرما دیئے جن پر کار بند رہتے ہوئے آج جماعت میں یہ نظام انتہائی مضبوطی سے قائم ہو چکا ہے۔شورای کا نظام خلافت سے گہرا تعلق ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ کہ خلافت بغیر مشورہ کے نہیں۔اس سے نظام شورای کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۲۲ء میں جماعت میں باقاعدہ مجلس مشاورت کا قیام فرمایا اور ۱۶،۱۵/ اپریل ۱۹۲۲ء کو جماعت احمدیہ کی پہلی مجلس شورای تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ہال میں منعقد ہوئی جس میں ۵۲ بیرونی اور ۳۰ مرکزی نمائندگان نے شرکت کی۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس شورای سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ شورای کی غرض و غایت ، اہمیت اور ہدایات بیان فرمائیں جو ہمیشہ کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔آپ