خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page viii

(iv) نے افتتاحی خطاب میں شورای کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ أَمْرُهُمْ شُوْرى بَيْنَهُمْ اپنے معاملات میں مشورہ لے لیا کریں۔مشورہ بہت ضروری اور مفید چیز ہے بغیر اس کے کوئی کام مکمل نہیں ہوسکتا۔اس مجلس کی غرض کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہنا چاہئے کہ ایسی اغراض جن کا جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے ان کے متعلق مختلف جماعت کے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لے لیا جائے تا کہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے یا ان احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں تو یہ مجلس شورای ہے“ خطابات شورای جلد اوّل صفحہ ۶ ) حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے اس پہلے افتتاحی خطاب میں مشورہ کے لئے تفصیلی ہدایات سے بھی نوازا کہ کس نیت اور کس طریق پر مشورہ دیا جائے ، یہ ہدایات پہلے خطاب کا حصہ اور اس جلد کی زینت ہیں۔شورای کے فوائد بیان کرتے ہوئے اسی خطاب میں فرمایا کہ اس سے کئی نئی تجاویز سوجھ جاتی ہیں ، لوگ صحیح رائے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، باتوں باتوں میں کئی باتیں اور طریق معلوم ہو جاتے ہیں ، باہر کے لوگوں کو کام کرنے کی مشکلات معلوم ہوتی ہیں اور یہ بھی فائدہ ہے کہ خلیفہ کے کام میں سہولت ہو جاتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی فکری صلاحیتوں سے نوازا تھا اور آپ جماعت کی تعمیر و ترقی کے آئندہ منصوبوں پر نظر رکھے ہوئے تھے اس کے لئے مشورے اور منصوبہ بندی فرمارہے تھے اس کیلئے بھی مجلس شورای کا نظام بڑی اہمیت کا حامل ہے چنانچہ آپ نے اپنے پہلے افتتاحی خطاب میں ہی فرمایا : ” میری نظر اس بات پر پڑ رہی ہے کہ ہماری جماعت نے آج ہی کام نہیں کرنا بلکہ ہمیشہ کرتا ہے۔دنیا کی انجمنیں ہوتی ہیں جو یہ کہتی ہیں آج کام کر کے دکھا دو اور لوگوں کے سامنے رپورٹ پیش کر دو مگر میں نے رپورٹ