خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page vi
(ii) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مثالی دینی معاشرہ کے جو خد و خال بیان کئے ہیں ان میں ایک بنیادی اصول باہمی مشورہ کو قرار دیا ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کی ایک سورۃ کا نام ہی سورہ شوری ہے۔اسی سورۃ میں اللہ " تعالیٰ فرماتا ہے ” وَ اَمْرُهُمْ شُوْری بَيْنَهُمْ که حسین دینی معاشرہ میں ان کے امور باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں۔یہ بات اللہ تعالیٰ نے یہیں ختم نہیں فرمائی اور شورائی نظام کا محض تصو رہی پیش نہیں فرمایا بلکہ ہادی عالم سرور کونین حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمان الہی بھی ملا کہ شَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ( آل عمران : ۱۶۰) کہ لوگوں کو مشورہ میں شریک کر۔لیکن جب تو پختہ ارادہ کرلے تو پھر اللہ کی ذات پر تو گل کر۔اس راہنما اصول اور فرمان الہی کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مبارک طریق تھا کہ آپ مختلف اجتماعی معاملات اور امور مملکت و معاشرت میں صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ارشادِ خداوندی اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپنے صحابہ کرام سے بوقت ضرورت انفرادی یا اجتماعی صورت میں مشورہ فرمایا کرتے تھے چنانچہ پہلا جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء اجتماعی مشورہ کی ایک روشن مثال ہے۔یہ جلسہ بھی تھا اور جماعت کی پہلی مجلس مشاورت بھی تھی۔اس شورای میں تجویز یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت ظاہر ہونے والے نشانات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کی خاطر ایک انجمن بنائی جائے۔اگلے ہی سال ۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کے اشتہار میں جلسہ سالانہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام نے جلسہ کو حصولِ مشاورت کا ایک ذریعہ قرار دیا اور فرمایا: ماسوا اس کے جلسہ میں یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں“ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۳۴۱) جماعت احمدیہ میں مشورہ کا نظام حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت اُولیٰ میں عند الضرورت جاری رہا اور انفرادی و اجتماعی مشورہ کی صورت میں دینی مہمات اور