خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 644
خطابات شوری جلد اوّل ۶۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء نہیں ہوتا کیونکہ جسم کے بڑھاپے کی وجہ سے بڑھا پا نہیں آتا بلکہ روح کے بڑھاپے سے آتا ہے۔بچہ جب باتیں کرنے لگتا ہے تو اُس زمانہ میں کہتا ہے چاند لینا ہے، تارا لینا ہے۔میرے متعلق ہی آتا ہے کہ رات کو میں رورہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اُٹھا لیا اور چپ کرنے کے لئے کہا دیکھو وہ تارا ہے۔اُس وقت میں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تارا لینا ہے۔تو بچہ کی نظر اس طرف جاتی ہے کہ وہ لینا ہے۔یہی روح ہمارے اندر ہونی چاہئے۔پس ہم کام اس لئے نہ کریں کہ دشمن ہمیں مار دے گا کیونکہ یہ مومن کی شان نہیں بلکہ مومن کی شان یہ ہے کہ کام اس لئے کرتا ہے کہ یہ بھی لینا ہے اور وہ بھی لینا ہے۔دیکھو قرآن کریم میں کیسے لطیف پیرایہ میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ولقد خلقنا الانسان من سُللَةٍ مِّن طين ! ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔طین پانی ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ دو محرک کام پر لگانے والے ہیں۔پھر فرماتا ہے یہ دو چیزیں رکھیں۔پھر کیا کیا ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةٌ في قَرَارٍ مكين ها نطفہ بنا دیا۔یعنی پانی رہ گیا اور مٹی غائب ہو گئی۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔وجعلنا من الماء كُلّ شَيْء حي ) ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔یعنی ہر چیز جذبات اور اُمنگ والی ہوتی ہے اس میں بڑھنے کی طاقت ہوتی ہے۔پانی حیات نامیہ ہے۔آخر جب پانی کم ہو جاتا ہے تو ہر چیز مٹی بن جاتی ہے گویا ابتداء ماء سے ہوتی ہے اور انجام تراب پر ہوتا ہے۔یہی مومن اور غیر مومن کی حالت ہوتی ہے۔مومن اس لئے کام کرتا ہے کہ دُنیا بسا جاؤں لیکن غیر مومن اس لئے کرتا ہے کہ فلاں خطرہ سے بچ جاؤں، فلاں مصیبت سے بیچ جاؤں۔“ اس کے بعد حضور نے بورڈ پر دائرے بنا کر مومن کی ترقی اور مخلوق خدا کی ہمدردی کے متعلق قرآن کریم کی آیات کے نکات بیان فرمائے اور نہایت وضاحت کے ساتھ بتایا کہ: بندہ ترقی کر کے جب خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی سامنے آ جاتا ہے اور اس کو مل جاتا ہے۔پھر بندہ کو نیچے بھیج دیتا ہے کہ جاؤ جا کر میرے بندوں کی خدمت کرو۔جب بندہ نیچے آتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس لئے نیچے آ جاتا ہے کہ دُنیا میرے اس بندہ