خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 645

خطابات شوری جلد اوّل ۶۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کو نقصان نہ پہنچائے۔جیسے ماں بچہ کو کہیں اکیلے بھیجتی ہے تو پھر اس کے پیچھے بھاگتی ہے کہ کوئی اُسے نقصان نہ پہنچائے۔“ آخر میں حضور نے فرمایا۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کے لئے مرنے والے کو کوئی مار نہیں سکتا۔اس بات کو پلے باندھ لو اور جب تم یہ ارادہ کر لو گے کہ خدا تعالیٰ کے لئے مرنا ہے تو پھر دُنیا کی کوئی طاقت تم کو مارنہ سکے گی۔ہاں تم پر وہ موت آئے گی جو نبیوں کو سچے دل سے ماننے والوں پر آتی ہے مگر ناکامی کی موت نہیں آسکتی کیونکہ تم جس پر گر و گے وہ چکنا چور ہو جائے گا اور جو تم پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا۔یہ مقام تم یقینی طور پر حاصل کرلو گے مگر اسی طرح کہ اس راستہ سے خدا تعالیٰ کے پاس جائیں جو میں نے بتایا ہے۔پرسوں میں نے جو تقریر کی اُس کے بعد میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ قاری سرفراز حسین جو دہلی کے تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اور میں نے ان کی شکل کبھی نہیں دیکھی وہ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔اس کی تعبیر میری سمجھ میں یہ آئی کہ جو سرفراز ہونا چاہتا ہے وہ حسینی نمونہ دکھا کر عزت حاصل کرے۔میں سمجھا اس سے خدا تعالیٰ کا یہی بتانا مقصود تھا۔گویا خدا تعالیٰ نے جماعت کو یہ پیغام دیا ہے کہ جماعت اگر سرفراز بننا چاہتی ہے تو حسینی نمونہ دکھا ئیں اور اس ابتلاء میں سے کامیابی کے ساتھ گزر جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کر بلا ئکیست صد حسین سیر ہر است در آنم گریبانم ! جب تک ہم یہ مثال پیش نہیں کرتے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمیں یہ نمونہ دکھانا ہو گا تب ترقی ہوگی۔پس خدا تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ تم دنیا کے سامنے اس نیت سے جاؤ کہ خدا کی راہ میں مارے جائیں گے مگر خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں مارے نہیں جائیں گے۔ہم میں سے ہر ایک کو موت قبول کر کے یزید کے لشکر کے سامنے جانا اور کر بلا سے گزرنا ہے مگر نتیجہ وہی ہو گا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت ہوا کہ چھری حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن کی بجائے مینڈھے کی گردن پر چلی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابراہیم بھی کہا