خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 643
خطابات شوری جلد اوّل ۶۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کرے گا اور دشمن ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔مجھے یہ خطرہ نہیں کہ دشمن کیا کرے گا بلکہ یہ ڈر ہے کہ اپنے آدمیوں میں سے کوئی غلطی نہ کر بیٹھے۔جیسے اُحد کی جنگ میں بعض صحابہ نے غلطی کی تھی۔اگر دوست اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں مٹادینے کے لئے تیار ہو جائیں تو کوئی انہیں مٹا نہیں سکتا اور وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جائیں گے پس اس طرح یہ طوفان ہمیں اونچا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔اگر سب دوست اس بات کو سمجھ لیں کہ ہمارا نقطہ نگاہ کیا ہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہمیں عظیم الشان کامیابی حاصل ہوگی۔دنیا میں کام دو طرح ہوتے ہیں ایک محبت سے دوسرے خوف سے۔یہ دونوں چیزیں ایک دوسری کے ساتھ لگی ہوتی ہیں مگر کبھی باری باری آتی ہیں۔کچھ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے کاموں پر محبت غالب ہوتی ہے اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے کاموں پر خوف غالب ہوتا ہے۔یعنی انسان بعض کام خوف سے کرتا ہے اور بعض کام محبت سے۔یہ دو دائرے ہیں۔ان کے متعلق ایک بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ جن کا دائرہ محبت کا ہوتا ہے وہ خواہش کے ماتحت ہوتا ہے کہ یہ بھی ہو جائے اور یہ بھی حاصل ہو جائے اور جن کا دائرہ خوف کا ہوتا ہے اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو جائے۔آجکل جب کہ ایک قسم کا خوف پیدا ہے، میں دیکھتا ہوں بعض کی حالت ایسی ہے کہ وہ کہتے ہیں ایسا نہ ہو جائے یعنی احرار ہمیں تباہ نہ کر دیں مگر کام کرنے کا یہ محرک اولی ہے۔مومن کا محرک یہ ہوتا ہے کہ یہ بھی لینا ہے اور وہ بھی لینا ہے۔اس کی مثال بچہ کی سی ہوتی ہے جس کی ترقی محبت کے ماتحت ہوتی ہے اس کی بڑی بڑی اُمنگیں ہوتی ہیں۔وہ کبھی کہتا ہے میں بہت بڑا تاجر بنوں گا، کبھی کہتا ہے بادشاہ بنوں گا لیکن اگر کسی بوڑھے سے پوچھو کہ تمہاری کیا خواہش ہے تو وہ کہے گا بس یہی کہ انجام بخیر ہو جائے۔بچہ یہ کوشش کرتا ہے کہ یہ بھی لے لوں مگر بوڑھا یہ کوشش کرتا ہے کہ اس بلا سے بچ جاؤں اور اُس بلا سے بھی بچ جاؤں۔بوڑھا آخرت کی فکر میں ہوتا ہے مگر بچہ نئی دُنیا پیدا کر رہا ہوتا ہے۔بڑھے کا محرک رگر نے والا ہوتا ہے مگر بچے کا بڑھنے والا۔میں اُن بڑھوں کا ذکر نہیں کرتا جو مرنے کے وقت تک بھی جوان ہی ہوتے ہیں۔حضرت انس ایک سو دس برس کی عمر میں جب فوت ہونے لگے اور ان کے دوست ان کے پاس آئے اور پوچھا کوئی خواہش ہے تو انہوں نے کہا شادی کرا دو یا پس مومن کبھی بوڑھا