خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 622

خطابات شوری جلد اول ۶۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کے بعد حضور نے شوری سے متعلق بعض ہدایات دیتے ہوئے فرمایا :- (1) دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے اُن دوستوں کو بولنے کا موقع دینے کے لئے جو کسی تجویز کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں پیرا کبر علی صاحب کو مقرر کیا ہے ۔ جب کوئی تجویز پیش ہو تو احباب کو چاہئے کہ جو اِس کے متعلق اظہارِ خیالا کرنا چاہیں وہ اپنے نام پیر صاحب کو لکھا دیں ۔ بالات پس جب کوئی تجویز پیش ہو تو پیر صاحب اُن دوستوں کے نام لکھیں گے جو اپنے نام لکھا ئیں گے۔ جن دوستوں کو بولنے کی خواہش ہو وہ اُسی وقت نام لکھا دیں۔ اگر بعد میں ضمنی سوال پیدا ہو یا تجویز کی اہمیت واضح ہونے پر کوئی نام لکھانا چاہے تو اس کے لئے استثناء رکھا جا سکتا ہے اور یہ بات پیر صاحب کے اختیار میں ہو گی یا ہو سکتا ہے کہ میں اجازت دے دوں ۔ (۲) پھر میں اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر کسی وقت گفتگو کو لمبا کرنے سے روکا جائے تو دوست رک جائیں ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس بات سے روکا جائے بعض دوست اُسی پر لمبی بحث شروع کر دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اگر انفرادی رائے کسی معاملہ کے متعلق کسی مصلحت کے ماتحت نہ سنی جائے تو اُس سے سلسلہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور یہ بات بد تہذیبی میں داخل ہے کہ جس کے سپرد کام ہو اس سے یہ بحث شروع کر دی جائے کہ آپ میری بات سمجھے نہیں۔ اگر وہ نہیں سمجھا اور اُس نے گفتگو لمبی کرنے سے روک دیا ہے تو کیا حرج ہو جائے گا۔ اُس وقت ضرور رک جانا چاہئے اور اگر ضرورت ہو تو تحریری طور پر لکھ کر بتا دینا چاہئے کہ میرا یہ مطلب تھا۔ اُس وقت اگر ضرورت ہو گی تو میں بولنے کی اجازت دے دوں گا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ مضمون میں تکرار نہ ہونا چاہئے ۔ اس کے متعلق میں نے کئی بار کہا ہے مگر دوست یاد نہیں رکھتے ۔ انگلستان کی پارلیمنٹ کے متعلق میں نے حال ہی میں پڑھا ہے کہ وہاں بھی ایک بات کو بار بار دہرایا جاتا ہے تو ہر جگہ یہ بات پائی جاتی ہے۔ مگر ہمارا کام اور ہمارا طریق دنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنٹ سے بھی بالا ہونا چاہئے کیونکہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے آدمی بہت زیادہ ہوتے ہیں اور معاملات نہایت اہم