خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 621
خطابات شوری جلد اوّل ۶۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء بھاگ پڑتیں اس وجہ سے اُنہوں نے اپنی سواریوں کی گردنیں کاٹ دیں اور سواریاں چھوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد لبیک يَا رَسُولَ اللَّهِ لَبَّیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے۔کے میں جب کاغذوں میں یہ واقعہ پڑھتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ تیرہ صدیاں مٹ گئی ہیں اور حضرت عباس کی آواز میرے کانوں میں آ رہی ہے۔اُس وقت میں چاہتا ہوں کہ اُڑ کر پہنچ جاؤں۔خدا کے مسیح کی آواز مگر اس وقت جب کہ خدا کے مسیح کی آواز ہمارے کانوں میں پہنچ رہی ہے کہ اے خدا کے بندو! تمہارا خدا تمہیں بلاتا ہے تو اس وقت عین میدانِ جنگ میں انصار نے جو قربانی کی اور لبیک کہتے ہوئے جا پہنچے اس سے بڑھ کر قربانی کرنا جو اپنا فرض نہیں سمجھتا اسے مومن کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔پس اگر کوئی اس آواز پر لبیک نہیں کہتا تو آواز پہنچانے والا کہہ دے کہ میں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے، دوسروں کا میں ذمہ وار نہیں۔اس نیت اور اس ارادہ سے جو نمائندے کھڑے ہوں گے وہ ضرور اپنی اپنی جماعتوں کو بیدار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اُن میں خدا داخل ہو جائے گا ، اُن میں خدا کا ظہور ہو گا۔پختہ ایمان اور پختہ ارادہ کی ضرورت اس کے لئے صرف پختہ ایمان، پختہ اخلاص اور پختہ ارادہ کی ضرورت ہے۔یہ مت خیال کرو کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد جو کام کیا ہے اس میں کامیاب ہونے کا سامان نہیں دیا۔خدا تعالیٰ نے تمہیں اس کے کرنے کے لئے الہ دین کا چراغ دیا ہے جو تمہارا دل ہے۔تم اس کو رگڑ و تمہارے لئے کامیابی کے دروازے گھلتے جائیں گے۔میں اس نصیحت کے ساتھ اور اس امید سے اس وقت مجلس شوریٰ کا افتتاح کرتا ہوں کہ جن لوگوں میں ابھی تک تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اُن میں آپ لوگ تبدیلی پیدا کر کے کام کرنا شروع کر دیں گے۔“ دوسرا دن مشاورت کے دوسرے دن کی تقریر ۲۰۔اپریل ۱۹۳۵ء کو جب مجلس مشاورت کا دوسرا اجلاس شروع ہوا تو تلاوت اور دُعا