خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 623
خطابات شوری جلد اوّل ۶۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء ہوتے ہیں۔چوتھی بات یہ ہے کہ احباب اختصار کو مد نظر رکھ کر بولیس بلا ضرورت ایک بات کو لمبا کرنا مفید نہیں ہوسکتا۔پانچویں بات یہ ہے کہ کسی موقع پر بھی آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب نہ کیا جائے۔ہر ایک بولنے والے کو چاہئے کہ مجھے مخاطب کرے کیونکہ میں نے ہی آپ لوگوں کو مشورہ کے لئے بلایا ہے۔چھٹی بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی کہا جائے اُس میں نیک نیتی مدنظر رہے اور کوئی ذاتی سوال درمیان میں نہ آئے اور کسی کی ذات کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔اگر کسی سے کوئی غلطی ہو گئی اور اُس پر تنبیہہ کی ضرورت ہوئی تو میں خود کر دوں گا۔اس کے بعد علاوہ اس دُعا کے جو ہم سب نے مل کر کی ہے پھر توجہ دلاتا ہوں کہ احباب دُعا پر بہت زور دیں۔ہمارا کام ایسا ہے کہ جسے کوئی انسان نہیں کر سکتا، خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اس لئے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بنانا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے قیمتی سے قیمتی ہتھیار کو بھی اگر غلاظت لگی ہو تو کوئی نفاست پسند انسان اسے نہیں پکڑتا۔پھر اللہ تعالیٰ جو قدوس ہے اُس کے متعلق کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ پکڑ لے گا۔ہمیں چاہئے کہ کبر، غرور اور تکبر کو بالکل چھوڑ دیں اور یہ سمجھ لیں کہ ہم دُنیا میں اس لئے آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنے وائرس کا سیٹ بنا لے۔جب خدا تعالیٰ کا کلام دُنیا کو پہنچتا ہے تو وہ دُنیا کے لئے مفید ہوتا ہے ورنہ اگر ہم بھی انسانی کلام پیش کریں تو پھر ہمارے لئے یہاں جمع ہونے کی کیا ضرورت ہے۔دُنیا میں اس کام کے لئے بہت مجالس بنی ہوئی ہیں۔پس ہمارے ارادے پاک، ہماری نیتیں صاف اور ہماری گفتگو پاکیزہ ہونی چاہئے۔ہمارے دل غصہ اور کپٹ کے سے خالی ہونے چاہئیں۔ہمیں بہت دُعائیں کرنی چاہئیں اور خشیت اللہ کو مد نظر رکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ ہم پر اہم ذمہ واری ہے رائے دینی چاہئے۔اس کے بعد میں اختصار کے ساتھ تحریک جدید کے ماتحت اپنے بچوں کو داخل کرانے والوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اس کے متعلق بعض احباب کو یہ غلطی لگی ہے کہ گویا تحریک جدید کے ماتحت کوئی علیحدہ سکول قائم کیا جا رہا ہے یہ نہیں بلکہ بورڈ نگ قائم کیا گیا