خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 39

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء سلسلہ سے ہے، اخلاق وغیرہ ان میں دے سکتا ہے لیکن ان میں بھی اُس کو قواعد کے ماتحت کام کرنا ہوگا۔اُس کا کام احکام کا نفاذ ہو گا قانون بنانا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کی آزادی میں کوئی فرق نہیں آتا۔جہاں کی جماعتوں میں امراء سے فائدہ نہیں ہوا وہ وہی ہیں کہ جن کو میں متواتر لکھ رہا ہوں کہ آپس کے جھگڑے چھوڑ دو۔سیالکوٹ کی انجمن نے حضرت مسیح موعود کے بعد لڑائی جھگڑے شروع کر دیئے۔جھگڑوں سے ہی تنگ آکر امیر مقرر کرنے ضروری سمجھے۔اور امیر تو ۱۹۲۱ء میں مقرر ہوئے۔میں ۱۹۲۰ء میں جب سیالکوٹ گیا تھا تو تقریر کی تھی کہ ہوشیار ہو جاؤ۔گھر میں جو لڑائیاں کرتا ہے وہ زیادہ دشمن ہے اور باہر کے دشمنوں سے یہ زیادہ خطرناک ہے۔افسوس ہے کہ سیالکوٹ کی جماعت نے ابتدائی جماعت ہونے کے باوجود نمونہ اطاعت میں کمزوری دکھائی۔حضرت صاحب نے ایک دفعہ فرمایا کہ بعض کا تعلق تو ہم سے ہے اور بعض کا مولوی صاحب سے ہے اور بعض لوگ انجمن سے تعلق رکھتے ہیں۔اپنے اور مولوی صاحب کے تعلق رکھنے والوں کو تو کہا کہ یہ محفوظ رہیں گے اور انجمن کی طرف جانے والوں کو کہا کہ ان کا خطرہ ہے اور سیالکوٹ کا نام لیا کہ اس کا بھی اسی طرف رُجحان ہے۔اطاعت کی روح پیدا کرو ہماری جماعت میں اطاعت کی روح ہونی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جان بوجھ کر ایسے لوگوں کو مقرر فرماتے جو کم حیثیت ہوتے اور اشار تا بیان کیا کہ دیکھوں لوگ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں؟ اُسامہ کو ایک بڑے لشکر کا سردار مقرر کیا اسی خیال سے کہ آیا لوگ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں ؟ مدینہ میں والی غیر معروف مقرر کئے اور ماتحت بڑے بڑے صحابی کئے۔پس جماعت میں یہ مادہ ہونا چاہئے کہ ذاتی فوائد کو جماعت کے لئے قربان کر دیں۔یہی گر ہے جس سے دشمن پر فتح پا سکتے ہیں۔تو امراء کے تقرر سے انجمن ٹوٹتی نہیں بلکہ یہ فائدہ ہے کہ پارٹی فیلنگ (PARTY FEELING) پیدا نہیں ہوگی اور کثرت رائے صحیح کثرت رائے ہوگی۔انجمنوں میں پارٹی فیلنگ پیدا کی جاتی ہے۔ممبروں سے کئی کئی وعدے خطابوں ، عہدوں کے دے کر ان کی رائے لی جاتی ہے۔اصل میں اسلام ہی کی جمہوریت ہے جو امراء کے ذریعہ قائم