خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 40
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء ہوتی ہے اس طرح حضرت صاحب قواعد بنانے کے خلاف نہیں تھے۔جب کہ صدر انجمن نے قواعد کے ہوتے ہوئے خلافت کو مانا اور بیعت ہوئی۔میرے خیال میں یہی مفید ہو سکتا ہے کہ امراء کے تقرر پر عمل کیا جائے۔اگر پہلے اس امر کو پیش نہ کیا گیا تو اس لئے کہ آہستہ آہستہ کام ہو۔چنانچہ مسجد میں حضرت صاحب کے سامنے یہ امر پیش ہوا کہ داڑھی منڈوانا بُرا ہے آپ لوگوں کو روکیں۔آپ نے فرمایا ہم آہستہ آہستہ کام کرتے ہیں اور اپنی داڑھی پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جب لوگ ہماری داڑھی دیکھیں گے اور ان کا اخلاص بڑھے گا تو خود رکھ لیں گے۔تو حضرت صاحب نے اگر امیر مقرر نہیں کئے تو اسی لئے کہ آہستہ آہستہ اور بتدریج کام ہو اور حضرت صاحب نے تو انجمنیں بھی مقرر نہیں کیں۔اس لئے فیصلہ یہی ہے اور میرا کیا یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ امیر ہو۔میری غرض اس کو کرنے کی یہ نہیں کہ لوگوں کے منہ سے نکلوا دوں کہ یہ ضروری ہے لیکن چونکہ یہ سیاسی معاملہ ہے اور جماعت اسے آگے پیچھے کر سکتی ہے اس لئے یہی مناسب ہے کہ جو جماعتیں تیار ہوں ، ان میں امیر مقرر کریں اور دوسروں کو بالواسطہ مجبور کریں کہ اس میں یہ یہ فوائد ہیں۔چھوٹی بڑی جماعتوں کا سوال غلط ہے۔اختلاف دو آدمیوں میں بھی ہوسکتا ہے اس کے لئے بھی امیر کی ضرورت ہے۔پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ قابل آدمی نہیں ملتے مگر ہمیں تو قابل بنانے ہیں اور وہ کام کرنے سے ہی بن سکتے ہیں۔پھر یہ بھی فائدہ ہوگا جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ اپنی اصلاح کرلیں گے اور نمونہ بن جاویں گے اور پھر کوئی وجہ نہیں کہ امیر ایک شخص ہی ہو بلکہ جب جماعت سمجھے کہ امیر غلطی کرتا ہے اس کے متعلق اطلاع دی جائے۔تو میں فیصلہ کرتا ہوں اور کثرتِ رائے اس کے ساتھ ہے کہ امیر کا تقرر شرعی امر ہے اس لئے اُتنے حصہ کے لئے جس میں ہمیں اختیار ہے امیر ہوں جو کثرتِ رائے کی پابندی کریں۔سوائے اس کے کہ دینی یا دنیوی طور پر سخت مصر سمجھیں اور رپورٹ کریں۔دوسری یہ کہ امیر کا تقرر لازمی نہ ہو بلکہ تحریک ہو اور لوگوں کو عادی کیا جاوے اور