خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 38
خطابات شوری جلد اوّل ۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء اسلام سے خارج ہی ہو جاویں گے اور بعض نے کہا ضروری نہیں۔لیکن یادر ہے بعض انتظام حالات اور سیاست کے ماتحت ہوتے ہیں۔ان میں جیسا کہ مولوی سرور شاہ صاحب نے بیان کیا ہے آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے۔ایسے معاملات سیاسی، خواہ مذہبی احکام کے نیچے آ جاویں ان میں توقف ڈالا جاسکتا ہے۔امارت اور سلطنت امارت سلطنت سے تعلق رکھتی ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق دونوں خیالات درست ہیں۔مگر اپنے اپنے مسئلہ کے چسپاں کرنے میں غلطی کی گئی ہے۔جو کہتے ہیں کہ تعلق نہیں رکھتی انہوں نے سلطنت کے معنے نہیں سمجھے۔ان کے نزدیک سلطنت کے معنے فوج اور خزانہ کے ہیں حالانکہ سلطنت کے معنے بہت وسیع ہیں۔سب باتوں پر غلبہ والی حکومت دنیا میں کوئی نہیں۔یورپ میں جو سلطنت چاہے وہ نہیں کر سکتی۔رعایا کی بات اُسے ماننی پڑتی ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی سلطنت حاصل تھی کہ سب باتوں پر غلبہ حاصل تھا۔سیاسی سلطنت بھی ہر رنگ میں تھی اور مذہبی بھی۔اس کے بعد ابو بکر کو سلطنت حاصل ہوئی مگر اختیارات کم ہو گئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کوئی کام کیا ہے اُسی طرح وہ کیا کریں اور جن کا ذکر نہیں کیا ان میں اجتہاد کر لیں۔تو سلطنت ہوتی ہے آگے اس کی حالت الگ ہوتی ہے اور جتنی سلطنت ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اتنے حصہ کو پھیلانے والے ہوں۔بے شک سلطنت ہمارے پاس اس رنگ میں نہیں جس رنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھی مگر ایک رنگ میں ہے که اخلاق درست کرنا، چوری چھڑانا وغیرہ۔بے شک یہ زور نہیں کہ چور کے ہاتھ کاٹ دیں مگر یہ تو ہے کہ حضرت صاحب نے کہا کہ میں کتاب لکھوں گا اخلاق پر جو اس کو نہ مانیں گے اُن کو جماعت سے نکال دوں گا تو ہمارے بھی اختیارات ہیں اور سلطنت سے بڑھ کر ہیں کیونکہ ہم جتنے معاملات میں دخل دے سکتے ہیں سلطنت نہیں دے سکتی اس لئے ہمیں بھی امیروں کی ضرورت ہے ہاں جس حصہ کی حکومت حاصل نہیں اُس میں مقرر کرنا غلطی ہو گا۔باقی رہی انفرادی آزادی اس میں امیر دخل نہیں دے سکتا۔ہاں جن امور کا تعلق