خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 605

خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء کوشش کی ہے کہ اس قسم کی ایک جماعت بن جائے اس کے لئے میں نے بعض خطبات پڑھے اور بھی توجہ دلاؤں گا۔پس میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ احباب اپنی اپنی جگہ کوشش کریں کہ ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں جو اپنی جماعت کی اندرونی اور بیرونی حالت اس طرح بنانے کی کوشش کریں کہ اس کا دوسروں پر اچھا اثر ہو اور یہ بات ہمارے اپنے لئے بھی مفید ہوگی۔نمائندگان مجلس شوری کا عہد ایک اور بات یہ ہے کہ میں نے انفرادی تبلیغ کی ضرورت بیان کی تھی مگر ابھی تک اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔یہی نمائندے جو اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اگر ان میں سے ہر ایک سال میں تین آدمیوں کو احمدیت میں داخل کرنے کا ذمہ لے تو بہت بڑی کامیابی ہوسکتی ہے اور یہ آدمی کئی ہزار لوگوں کو بیعت کرانے کا موجب ہو سکتے ہیں۔دُھن اور اخلاص کے ساتھ کسی کام کی طرف متوجہ ہونا کامیابی کے لئے رستہ کھول دیتا ہے اور جب کسی کام کی ذمہ واری لے لی جائے تو پھر اس کے کرنے پر زور بھی دیا جاتا ہے۔جس طرح دریا میں ڈوبنے والے کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اِس سے زیادہ گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے مگر اکثر احمدیوں نے ابھی تک توجہ نہیں کی۔حالانکہ جو دن گزر رہے ہیں وہ نہایت نازک ہیں۔ہندوستان سلسلہ احمدیہ کا مرکز ہے اسے ہم چھوڑ نہیں سکتے ورنہ یہاں سے ہمارا ہجرت کر جانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس لئے مکہ چھوڑا کہ کفار بھی اُس کی حفاظت کرتے تھے مگر ہم قادیان چھوڑ کر جائیں تو ہمارے مقدس مقامات کی حفاظت کون کرے گا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ابتدائی زمانہ خلافت میں جب کہ یہاں غیر احمد یوں نے بڑا بھاری جلسہ کیا تھا اور اُنہوں نے علی الاعلان کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر کو اُکھیڑا جائے اُس وقت ہمارے لئے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور جوں جوں ڈیمو کریسی بڑھتی جا رہی ہے ہمارے لئے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔اس لئے ہمارے لئے یہی صورت ہے کہ جو لوگ حملہ کرنا چاہتے ہیں اُن کو اپنے اندر شامل کر لیں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ تبلیغ کے متعلق اِس اہمیت کے لحاظ سے غور کریں اور لوگوں کو