خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 604
خطابات شوری جلد اوّل ۶۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء ہنگامی چندے اول دوستوں کو ہنگامی چندوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔چونکہ ہمارے ہاں چندوں کا ایک طریق مقرر ہے اس لئے اگر کسی ہنگامی چندہ کے لئے تحریک کی جائے تو کم توجہ کی جاتی ہے جیسے زلزلہ بہار کا واقعہ تھا۔وہاں کے جو حالات سُنے انسان تو انسان حیوان کا دل بھی پگھل جاتا ہے مگر جب زلزلہ کے مصیبت زدوں کے لئے چندہ کی تحریک کی گئی تو ایسا جواب دیا گیا جس سے میں حیران رہ گیا۔میرے سامنے اس وقت ایک دوست بیٹھے ہیں، جہاں کے وہ رہنے والے ہیں وہاں سینکڑوں جماعت کے آدمی ہیں مگر اُس جماعت نے صرف ۲۳ روپے کچھ آنے چندہ دیا۔اسی طرح اور کئی جماعتوں کا چندہ نہایت قلیل آیا حالانکہ امداد دینے کی بے حد ضرورت ہے۔اس علاقہ میں بہت سی مساجد گر گئی ہیں جن کی تعمیر کے لئے ہم سے بھی چندہ مانگ رہے ہیں۔خواہ وہ لوگ ہمیں ان مساجد میں داخل نہ ہونے دیں ہم چونکہ مساجد کو خانہ خدا سمجھتے ہیں اس لئے ان کی تعمیر کے لئے چندہ دے سکتے ہیں۔پھر مصیبت زدہ لوگوں کو بھی امداد دینی چاہئے اور خواہ وہ کسی مذہب و ملت کے ہوں اُن سے ہمدردی کرنی چاہئے۔پھر اس علاقہ میں جو احمدی ہیں ان میں سے بھی کئی ایک کے مکانات کو بہت نقصان پہنچا اُن کی امداد کرنی ضروری ہے۔مگر گل چندہ اس وقت دو ہزار کے قریب آیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چندہ دینے والا ایسا نہیں جس نے درد سے چندہ دیا ہو۔اس تحریک میں حصہ لینے کے لئے احباب کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔ہر جماعت کو اس میں خاص طور پر حصہ لینا چاہئے۔سالکین کی تحریک ایک تحریک میں نے جلسہ سالانہ پر کی تھی اور وہ سالکین کی تحریک تھی۔اس میں بہت سے دوستوں نے نام لکھائے ہیں مگر میں پھر جماعت کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ جماعت کے عام لوگوں میں یہ خیال ہے کہ اصلاح کا کام کارکنوں کے سپرد ہے۔یا پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے نفس کا مطالعہ کریں، نفس کے نقائص معلوم کریں اور ان کے دور ہونے کے لئے دُعا کریں اس طرح علاج ہو جائے گا۔بے شک اصلاح کا یہ بھی ایک طریق ہے لیکن ایک کامیاب طریق وہ ہے جو صوفیاء نے اختیار کیا اور جو صحابہ میں بھی رائج تھا کہ آپس میں بھائی بھائی بن جاتے اور ایک دوسرے کو اس کے نقائص کی طرف توجہ دلاتے۔میں نے