خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 585

خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء کرنا مقامی حالات کے رو سے مناسب نہیں اور جماعت بھی یہی سمجھے اور مبلغ کا پروگرام بھی نہ ٹوٹے تو اس صورت میں چیلنج منظور کر لینا چاہئے۔فیصلہ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے بیان کئے گئے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثات کو پسند نہیں کیا بلکہ ایسی چیز قرار دی ہے جیسے جنگ کی مثال ہے۔دوسرا حملہ کرے تو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں اور وہ بھی اجازت ہے حکم نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی وقت میں دشمن حملہ کرتے تو جنگ سے گریز کے لئے کہا جاتا یہاں تک کہ ایک وقت آ گیا جب مقابلہ ضروری ہو گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثات کو نا پسند کیا ہے مگر پھر بھی آپ کے زمانہ میں مباحثات ہوئے۔یہ ٹھیک ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کے لحاظ سے خدا نے آپ کو مباحثات کرنے سے روک دیا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ جماعت میں ایسے بالغ ، عاقل افراد مذہبی لحاظ سے پیدا ہو گئے ہیں کہ جو یہ بوجھ اُٹھا سکیں۔ہماری یہ تجویز اُسی روح کو تازہ کرنے والی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا کی کہ مباحثات سے حتی الامکان بچنا چاہئے اور انفرادی تبلیغ اور تقاریر پر زور دیا جائے۔اگر مخالفین کی طرف سے مباحثہ کا چیلنج ملے اور مباحثہ نہ کرنے کی صورت میں یہ اثر پڑتا ہو کہ گویا ہماری طرف سے فرار ہے تو بہتر ہے کہ مباحثہ تحریری ہو۔میں اسے منظور کرتا ہوں۔دوسرا حصہ جو یہ ہے کہ مبلغ موجود ہو یا مقامی لوگ مباحثہ کر سکیں تو مرکز سے اجازت لینے کی ضرورت نہ ہو اس میں بعض خطرات باقی رہ جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایسا شخص مباحثہ کر لیتا ہے کہ وہ جو تحریر دے وہ کمزور ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جب وہ شائع ہوگی تو لوگوں پر یہ اثر پڑے گا کہ احمدی جواب نہیں دے سکے۔۔۔ایسا جواب اگر مناظرہ میں دیا اور یہ چھپ جائے تو ہماری بہت سبکی ہوگی اور مقامی بات مقامی نہیں رہتی بلکہ پھیل جاتی ہے۔ابھی پٹھانکوٹ کا واقعہ ہوا وہاں ایک مخالف آیا جس نے سخت بدزبانی کی۔اُس کا جواب بجائے تقریری کے تحریری دیا گیا اور تحریر سخت لکھی گئی۔اب وہ تحریر جہاں جہاں پھیلے گی لوگ خلاف ہو جائیں گے کہ ہمیں بُرا بھلا کہا گیا ہے۔اسی طرح کوئی بات مقامی