خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 586

خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء نہیں رہ سکتی۔اس وجہ سے میں تقریری مباحثات کو ترجیح دوں گا۔جہاں مقامی مناظر پیش ہو یعنی وہ تقریری مناظرہ کرے تحریری نہ کرے اور اگر تحریری کرے تو انفرادی طور پر کرے جماعت کی طرف سے پیش نہ ہو۔یعنی جہاں مرکزی مبلغ مناظرہ کرے وہاں تحریری مناظرہ کو ترجیح دی جائے اور جہاں مقامی مناظر پیش ہو وہاں تقریری کو۔مرکزی مناظر کی صورت میں تمام ذمہ واری مرکزی مناظر کی سمجھی جائے گی اور اُس کا یہ کہنا کافی نہ ہو گا کہ مجھے جماعت کی طرف سے مناظرہ کے لئے مجبور کیا گیا تھا۔“ التوائے جلسہ سالانہ گزشتہ سال کی طرح اس سال ( یعنی ۱۹۳۴ء) پھر یہ سوال سامنے آیا کہ رمضان کی وجہ سے جلسہ سالانہ دسمبر کی مقررہ تاریخوں کی بجائے کسی اور مناسب وقت پر منعقد کیا جائے۔اس بارہ میں سب کمیٹی دعوۃ وتبلیغ نے تجویز پیش کی کہ : - " جلسہ سالانہ ماہ دسمبر میں مقررہ تاریخوں پر ہی ہو۔انتظامی مشکلات کے متعلق ہر دو منتظمین جلسہ سالانہ نے اظہار کیا کہ کسی اور موسم میں جلسہ کا انعقاد زیادہ مشکلات کا باعث ہو گا۔“ اس پر کئی احباب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کے بعد حضور نے فرمایا : - اب سوال یہ پیش ہے کہ آئندہ سال سے جلسہ کن ایام میں ہو؟ ان ہی دسمبر کے مقررہ ایام میں ہو خواہ وہ ایام رمضان میں پڑیں یا اور دنوں میں ہو۔اور دنوں کے لئے پوچھا گیا تو سوائے ایسٹر کے کوئی موقع نہیں بتایا گیا۔میں اس بارے میں رائے لینے سے پہلے بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔جو تقریریں کی گئی ہیں وہ بالعموم اپنے دائرہ میں رہ کر اور اُن اصول کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہیں جو رکھنے چاہئیں تھے مگر افسوس کہ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے جو تقریر کی شاید ان کی طبیعت ناساز تھی کہ اس وجہ سے ایسی باتیں کہہ گئے جن کے متعلق میں کچھ کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔انہوں نے پانچ باتیں کہیں اور پانچوں ہی ایسی ہیں کہ ضرور ہے میں ان کے متعلق کچھ کہوں۔انہوں نے پہلے یہ سوال اُٹھایا کہ جلسہ کے ایام کے متعلق سوال کو پیش ہی کیوں کیا گیا حالانکہ خلیفہ کا اس کے متعلق فیصلہ تھا کہ پیش ہو۔اور ان کے یہ کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ خلیفہ کا خواہ حکم تھا تو پھر بھی میں چونکہ نہیں چاہتا کہ پیش ہو اس لئے کیوں پیش کیا گیا۔