خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 584

خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء سے فائدہ اُٹھایا۔جب میں ان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہوں تو پھر سمجھ نہیں سکتا کہ آپ لوگ کیوں فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔مجلس شوری کا نمبر ہونے کے لحاظ سے ہر شخص کا مساوی درجہ ہے اور سب برابر ہیں۔کوئی چھوٹا نہیں اور نہ کوئی بڑا ہے اس لئے ہر ایک کی بات کو توجہ اور غور سے سُننا چاہئے اور اگر کسی کی بات کے خلاف کچھ کہنا ہوتو اُس کا نام نہیں لینا چاہئے اور نہ اُسے مخاطب کرنا چاہئے بلکہ خطاب میری طرف ہونا چاہئے۔پھر ایک ہی بات کو دُہرانا نہیں چاہئے اس طرح وقت ضائع ہوتا ہے۔“ سب کمیٹی دعوۃ وتبلیغ کی رپورٹ پیش ہوئی پبلک مباحثات کے بارہ میں ہدایات کہ پاک مناظرہ اور مباحثہ سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔تاہم اگر کسی جگہ خاص حالات کی وجہ سے مجبوراً کرنا ہی پڑے تو مرکز سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔اس پر تفصیلی بحث ہوئی اور چند احباب نے ترامیم پیش کیں۔رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا :- موجودہ ریزولیوشن کا مفہوم یہ ہے کہ آئندہ جماعت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مباحثات کے طریق کو اپنے قلوب میں نا پسند کرے، کسی کو خود چیلنج نہ دے۔اگر یہ چیز اچھی ہوتی تو جماعت کو ترغیب دی جاتی کہ خود ایسا کرے مگر یہ ریزولیوشن قرار دیتا ہے کہ یہ محبوب چیز نہیں ہے کہ اس کو جاری رکھا جائے بلکہ جس طرح اسلام جنگ کو پسند نہیں کرتا اور یہ نہیں کہتا کہ قتل کرو لیکن اگر دشمن مجبور کرے تو پھر کہتا ہے کہ جنگ کرنی چاہئے۔اسی طرح مباحثہ کا حال ہے۔اگر مخالف مباحثہ کے لئے چیلنج دے اور مجبور کرے مگر پھر بھی دیکھا جائے اور جماعت یہی سمجھے کہ شرارت کرتا ہے اور فساد کا خطرہ ہے تو چیلنج نہ قبول کرے۔لیکن جب دیکھے کہ منظور کرنا ضروری ہے اور اس کے بغیر چارہ نہیں تو منظور کر لے۔مگر پھر اس کے لئے یہ کوشش کرے کہ مباحثہ تحریری ہو۔اگر یہ ناممکن ہو اور حالات مجبور کرتے ہوں کہ چیلنج قبول کیا جائے تو جماعت مرکز میں رپورٹ کرے کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں دشمن نے چیلنج دیا ہے اور ہم مجبور ہیں کہ منظور کریں اس کے لئے اجازت دی جائے۔پھر جب اجازت ملے تو شرائط اور تاریخ وغیرہ مقرر ہو۔اس میں پھر استثناء ہے کہ اپنا مقامی مبلغ ہو تو اُس کے لئے اجازت مرکز سے لینے کی ضرورت نہ ہو یا مرکزی مبلغ موجود ہو اور وہ متفق ہو کہ چیلنج رڈ