خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 36

خطابات شوری جلد اوّل ۳۶ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء والدہ صاحبہ سے کہا کہ انہیں ( یعنی مجھے ) انجمن کا ممبر بنا دیا ہے۔نیز ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب کو اور مولوی صاحب کو تا کہ اور لوگ نقصان نہ پہنچا دیں۔پھر میاں بشیر احمد صاحب کا نام لیا گیا۔آپ نے فرمایا وہ مدرسہ میں پڑھتے ہیں۔افسر اُن کے ماتحت ہوں گے اس لئے اُن کو رہنے دو۔پھر وہ جگہ جہاں آپ اُس وقت بیٹھے تھے اور جو وقت تھا مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے۔آپ آئے اور کہا یہ نام تجویز کئے ہیں۔ڈاکٹر محمد حسین صاحب کا نام یقینی یاد ہے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب کا یقینی یاد نہیں کہ حضرت صاحب نے تجویز کیا یا نہیں۔آپ کو کہا گیا چودہ نام لکھ لئے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا اور چاہیں باہر کے آدمی بھی ہوں اور ان کے نام بھی بیان کئے جن میں سے ذوالفقار علی خان صاحب، چوہدری رستم علی خان صاحب، ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب کے نام اس وقت مجھے یاد ہیں۔اس پر کہا گیا ہے کہ زیادہ آدمیوں سے کورم نہیں پورا ہوگا۔آپ نے فرمایا اچھا تھوڑے سہی۔پھر کہا اچھا ایک اور تجویز کرتا ہوں اور وہ یہ کہ مولوی صاحب کی رائے چالیس آدمیوں کی رائے کے برابر ہو۔( یہ امیر نہیں تو اور کیا ہیں ؟ ۱۴ ممبر ایک طرف ایک کی رائے چالیس کے برابر ہو )۔اُس وقت میرے سامنے ان لوگوں نے حضرت صاحب کو دھوکا دیا کہ حضرت ہم نے مولوی صاحب کو پریذیڈنٹ بنایا ہے اور پریذیڈنٹ کی رائیں پہلے ہی زیادہ ہوتیں ہیں۔حضرت صاحب نے کہا ہاں یہی میرا منشاء ہے کہ ان کی رائیں زیادہ ہوں۔مجھے اُس وقت انجمنوں کا علم نہ تھا کہ کیا ہوتی ہیں ورنہ بول پڑتا کہ پریذیڈنٹ کی ایک ہی زائد رائے ہوتی ہے تو انہوں نے یہ دھوکا دیا پھر تفصیلی قواعد مجھے ہی دیئے گئے تھے اور میں ہی حضرت صاحب کے پاس لے کر گیا تھا اُس وقت آپ کوئی ضروری کتاب لکھ رہے تھے۔آپ نے پوچھا کیا ہے؟ میں نے کہا انجمن کے قواعد ہیں۔فرمایا لے جاؤ بھی فرصت نہیں ! گویا آپ نے ان کو کوئی وقعت نہ دی۔امارت کے فرائض دراصل امارت کے فرائض کو لوگوں نے نہیں سمجھا جو میں نے بتائے تھے۔گو اس تفصیل سے احادیث میں نہیں ملتے کیونکہ تیرہ سو سال کی بات ہے مگر ان کا پتہ ضرور چلتا ہے۔