خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 37
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو مشورہ سے کام نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں اور میں نے امیر کے لئے رکھا تھا کہ علی العموم کثرت رائے سے فیصلہ کریں۔میں بھی یہی کرتا ہوں ، کوئی ایک آدھ ہی معاملہ سال میں ہوتا ہوگا جس میں میں کہوں کہ میری یہ رائے ہے اس کے مطابق عمل ہو ، ورنہ عموماً کثرتِ رائے سے جو تجویز ہو اُسی کو عمل میں لایا جاتا ہے۔دیکھو اُحد کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں پسند نہیں کرتا کہ باہر جا کر مقابلہ کیا جائے مگر سب نے کہا کہ لوگ ہمیں بُزدل کہیں گے۔جب ہم کفر میں بُزدل نہیں ہوئے تو اب کیوں کہلائیں۔تاریخ میں لکھا ہے کہ عبداللہ ابن ابی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مشورہ نہیں لیا تھا مگر اُس دن اس کو بلایا اور پوچھا کہ وہ کیا کہتا ہے۔شاید وہی کہے کہ باہر نہ جائیں اور لوگوں کو اس بات کی تحریک ہو مگر اس نے بھی کہا باہر ہی جانا اچھا ہے۔جب باہر جانے لگے اور جوش کم ہوا تو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ باہر آنا غلطی تھی اور ہم نے غلطی کی۔مگر آپ نے نہ مانا اور کہا کہ نبی جب تیار ہو جاتا ہے تو پھر نہیں کوشتا۔کے اُس وقت انہیں سبق دینے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات مان لی اور اس جنگ میں ایک امیر مقرر کیا کہ اس کے حکم کے بغیر نہیں ہٹنا مگر پھر بھی جو حالت ہوئی وہ ظاہر ہے۔امیر کی پوزیشن تو یہ بات کہ امیر کثرت رائے کی اتباع کرے ۹۹ فیصدی یہی ہو گا کہ ایسا ہی کرے اور ممکن ہے کہ پانچ پانچ سال ایسا ہی ہو کہ اُس کو اپنی بات منوانے کی ضرورت ہی نہ ہو۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کوئی ایسی بات ہوئی ہو جس کے خلاف مشورہ دیا گیا ہو اور میں نے کہا ہو کہ یہی کرو۔تو امیر کے لئے یہ رکھا ہے کہ کثرتِ رائے سے فیصلہ کرے اور اگر اس کے خلاف کرے تو وجوہات لکھے۔دوسرے لوگ اگر چاہیں تو خلیفہ کے پاس شکایت کریں۔پس کثرتِ رائے کے خلاف فیصلہ نہ ہوگا کیونکہ کون کہہ سکتا ہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اس کی رائے درست ہے۔اس کی رائے بھی غلط ہوسکتی ہے۔یہ امیر کی پوزیشن ہے۔امیر کا تقرر شرعی ہے یا نہیں یہ اختلاف کے تقرر شرعی ہے یا نہیں اس کے متعلق بعض نے ایسا زور دیا کہ جو اس تقرر کو نہ مانیں گے گویا وہ