خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 575
خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء دینا پڑا اور بجائے ۱۰ بجے کے ابجے ملاقاتوں کا سلسلہ ختم ہوا۔آداب مجلس اس کے بعد میں احباب کو اُس ادب کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس پر ہر مجلس میں عمل ہونا چاہئے اور جو کسی مذہب سے متعلق نہیں بلکہ ہر مذہب کے لوگوں کے لئے ضروری ہے مگر بعض دوست اُسے بھول جاتے ہیں۔وہ یہ ہے کہ جب مجلس شروع ہو تو آپس میں باتیں نہیں کرنی چاہیں۔یہ شکایت کل مجھے اپنے سامنے والے اصحاب سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ اُن کی طرف سے پیدا ہوئی جو میرے پیچھے بیٹھے ہیں اور جو سلسلہ کے کارکن ہیں۔جب میں تقریر کر رہا تھا تو دو ناظر منٹوں آپس میں بے تکلفی سے باتیں کرتے گئے۔یہ آداب مجلس کے صریح خلاف ہے اور خلاف ورزی کرنے والے صدر انجمن احمد یہ کے ناظر تھے۔وہ نہایت ذمہ واری کے کام پر مقرر ہیں مگر خلیفہ تقریر کر رہا ہے اور وہ اُس کی بغل میں بیٹھ کر کوئی ایک بات نہیں بلکہ لمبا سلسلہ گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔گویا گھروں کے جھگڑے اسی وقت طے کرنے بیٹھے ہیں۔یہ شکایت مجھے پہلے بھی پیدا ہوئی تھی۔اس کی طرف میں توجہ دلاتا ہوں اور اب وضاحت کے ساتھ بتاتا ہوں کہ آئندہ اگر کسی ناظر کے متعلق یہ شکایت پیدا ہوئی تو میں ہدایت جاری کر دوں گا کہ اُسے مجلس شوری سے خارج کر دیا جائے۔اگر کوئی ضروری بات کرنی ہو تو کاغذ پر لکھ کر کر لینی چاہئے۔یا اگر چھوٹا سا فقرہ کہہ دیا جائے تو اس کی وجہ سے تقریر میں حرج واقعہ نہیں ہوتا مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ لمبا سلسلہ گفتگو چلتا ہے۔ایک بزرگ کا قصہ ایک بزرگ گزرے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جج تھے۔انگریزی کی کتابوں میں بھی ان کے قصے آتے ہیں۔ایک قصہ میں ذکر ہے کہ ان کے سامنے گواہوں کی ایک جماعت پیش ہوئی۔تو ان میں سے ایک کے متعلق اُنہوں نے کہا کیا آپ اُستاد ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔کسی نے پوچھا آپ نے کس طرح معلوم کر لیا کہ یہ استاد ہیں؟ انہوں نے کہا استاد کا طالب علموں سے واسطہ پڑتا ہے اور وہ حکم چلانے کا عادی ہوتا ہے اِس وجہ سے اس میں بھی آداب مفقود ہو جاتے ہیں۔ممکن ہے قدرتی طور پر حکم کرنے والوں سے آداب مفقود ہو جاتے ہوں مگر اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام میں جتنا کوئی بڑا ہو اتنا ہی زیادہ مؤدب ہوتا ہے۔اس بات کو