خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 576

خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء خاص طور پر مد نظر رکھنا چاہئے اور اس کے مطابق اپنا طریق عمل بنانا چاہئے۔اس کے بعد میں پھر جماعت کو مشورہ کے مشورہ کے متعلق ضروری ہدایات اوقات کے متعلق یہ ہدایت دیتا ہوں کہ مشورہ دیتے وقت یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ دُنیا میں عظمند سے عقلمند انسان دوسرے سے سبق حاصل کر سکتا ہے اور کسی کی بات رڈ کرنے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اُس کی بے وقوفی کا اعلان کیا جاتا ہے۔بسا اوقات ایسا شخص ۹۹ دفعہ اچھی بات سوچ لیتا ہے لیکن سوویں دفعہ اُسے دوسرے سے سبق مل جاتا ہے۔امام ابو حنیفہ کے متعلق آتا ہے، اُن سے کسی نے پوچھا آپ کو بھی کوئی ایسا شخص ملا ہے جس نے آپ کو کوئی سبق دیا ہو؟ انہوں نے کہا کئی لوگوں سے میں نے سبق حاصل کئے مگر سب سے زیادہ یا درہنے والا سبق وہ تھا جو ایک لڑکے نے دیا۔واقعہ یہ ہوا کہ بارش ہو چکی تھی اور وہ لڑکا دوڑتا پھرتا تھا۔میں نے اُسے کہا میاں لڑکے! سنبھل کر چلو ایسا نہ ہو کہ گر پڑو اور چوٹ لگے۔لڑکا بہت ہی زیرک تھا میری طرف دیکھ کر کہنے لگا اگر میں گرا تو مجھے ہی چوٹ لگے گی لیکن اگر آپ گرے تو لاکھوں انسانوں کو پہنچے گا۔امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا قیمتی سبق تھا کہ اس پایہ کا اور کوئی سبق مجھے نقصان نہیں ملا۔اصل بات یہ ہے کہ عقل خدا تعالیٰ کی دین ہے۔اُس نے عقل تقسیم کرتے وقت ساری کی ساری کسی ایک کو نہیں دے دی بلکہ سب میں بانٹ دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بدصورت سے بدصورت چیز کے بھی بعض حصے خوبصورت ہوں گے۔اسی طرح بیوقوف سے بیوقوف کی بات کا بھی کوئی نہ کوئی حصہ اچھا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک خادم پیرا نام تھا۔وہ اتنا کم فہم تھا کہ حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے کہ ہفتوں بڑی کوشش سے اُسے کلمہ یاد کرایا۔ایک دفعہ اُس سے کسی نے پوچھا تمہارا مذ ہب کیا ہے؟ کہنے لگا ہمارے گاؤں کے پیچ کو معلوم ہے اُس سے پوچھ کر بتاؤں گا مگر باوجود ایسی عقل و سمجھ رکھنے کے وہ بھی بعض اوقات عقل کی بات کر جاتا تھا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تار دینے کے لئے اُسے بٹالہ بھیجا۔وہاں سے آ کر اُس نے بتایا کہ مجھے مولوی محمد حسین بٹالوی ملا تھا۔کہنے لگا وہاں کیوں رہتے ہو؟ وہاں سے چلے جاؤ اور بھی بہت باتیں کرتا رہا۔