خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 574

خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء مشورہ دینے کے وقت کی حالت پھر کیا تم خیال کرتے ہو کہ جو مشورہ تکبر ، تعلی اور غرور کے ساتھ دیا جائے وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کا موجب ہو سکتا ہے؟ قطعاً نہیں۔ہماری حالت تو یہ ہونی چاہئے کہ جب ہماری زبانیں کسی مشورہ کے لئے بول رہی ہوں تو ہمارے دل خدا تعالیٰ کے عرش کے سامنے لرز رہے ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست مشورہ دیتے وقت اس بات کو مدنظر رکھیں گے۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۳۱ / مارچ ۱۹۳۴ء کو جب پہلا اجلاس شروع ہوا تو حضور نے احباب کو چند اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - ضرورت تقریر مطبوعہ پروگرام کے مطابق اس وقت سب کمیٹیوں کی کارروائیوں پر غور کرنا چاہئیے اور اس وقت میری کسی تقریر کے لئے وقت مقرر نہیں ہے لیکن مجھے کل محسوس ہوا کہ در حقیقت میری تقریر سب کمیٹیوں کی رپورٹوں پر غور کرنے سے پہلے ہونی چاہئیے۔بجائے سب کمیٹیوں کے تقرر کے وقت کے۔کیونکہ ایک دن کی بات کا اثر دوسرے دن تک کچھ نہ کچھ کمزور ہو جاتا ہے۔کل میں نے بات کو مختصر کیا تھا کیونکہ میرا ارادہ تھا کہ زیادہ وضاحت کے ساتھ ہدایات کل بیان کروں گا۔گو یہ مطبوعہ پروگرام کے خلاف ہے لیکن ضرورتِ حقہ یہ ہے کہ سب کمیٹیوں کی رپورٹوں پر غور کرنے سے پہلے ضروری ہدایات دی جائیں۔مقررہ وقت پر نہ آنے کی وجہ سب سے پہلے تو میں یہ عذر بیان کرتا ہوں کہ کل میں نے آپ لوگوں کو تاکید کی تھی کہ مقررہ وقت پر پہنچ جائیں۔لیکن میں خود ۱۵ منٹ دیر سے آیا ہوں وجہ یہ ہوئی رات کو نماز کے وقت طبیعت خراب ہو گئی پھر پچپش لگ گئی۔اس تکلیف کی وجہ سے صبح ملاقات 9 بجے شروع ہو سکی۔چونکہ بعض دوستوں کو ضروری معاملات کے متعلق گفتگو کرنی تھی اس لئے انہیں لمبا وقت