خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 573
خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء بڑے لوگوں کے ذریعہ نہیں ہوا بلکہ ان کے ذریعہ ہوا جن کے متعلق الہام ہوا۔لا تحزن إن الله معنا - مجھے فرانس کے ایک مصنف کا ایک قول یاد آیا جو بہت لطیف ہے۔وہ لکھتا ہے مجھے ان لوگوں پر تعجب آتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) لالچی ، حریص ، اور جھوٹا تھا۔اور باتوں کو جانے دو ایک بات ایسی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے تھے سنجیدگی سے کہتے تھے اور اُن کے پیچھے کوئی اور طاقت تھی جو سب کچھ کراتی تھی۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت معمولی درجہ کا چھوٹا سا مکان ہے جس کی چھت تھوڑی سی بارش سے بھی ٹپک پڑتی ہے اُس میں چند آدمی بیٹھے ہیں جن کے بدن پر لباس بھی پورا نہیں مگر اُن کے چہروں پر سنجیدگی اور متانت کے آثار نظر آتے ہیں اور وہ غور کر رہے ہیں کہ دُنیا کو فتح کرنے کے لئے اور اس میں تغیرات پیدا کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد اُن کے ذریعہ دُنیا میں عظیم الشان انقلاب پیدا ہو گیا اور اُنہوں نے دُنیا کو فتح کر لیا۔اس کے بعد کوئی عقل یہ تسلیم نہیں کر سکتی کہ وہ جو کچھ کر رہے تھے، وہ بناوٹ تھی بلکہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یقینا ان کے پیچھے کوئی اور طاقت تھی جس کے سہارے وہ کھڑے تھے۔پس ایسے ہی لوگ دُنیا کی اصلاح کا کام کر سکتے ہیں۔وہ جو مال و دولت کا خدا کا سہارا گھمنڈ رکھتے ہیں جنہیں اپنی طاقت اور قوت کا گھمنڈ ہوتا ہے وہ قطعاً کام نہیں کر سکتے۔وہی کام کر سکتے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ کا سہارا ہو اور جن کو خدا کا سہارا میسر ہو اُنہیں کوئی گر انہیں سکتا۔یہی وہ طاقت ہوتی ہے جسے کوئی جیت نہیں سکتا اور کوئی طاقت اِس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی ، خواہ وہ نیچر کی طاقت ہو یا دُنیا کی۔اس طاقت اور وثوق کے ساتھ ہمیں کھڑا ہونا چاہئے اور جب ہماری یہ حالت ہوگی تو مشوروں کے وقت روح القدس نازل ہو کر کام کرنے کا طریق بتائے گی جس سے کامیابی حاصل ہوگی ورنہ ہماری عقل اور ہماری کوشش سے کچھ نہیں ہوگا۔ہمارا ہاتھ پاؤں ہلانا تو اتنی بھی حقیقت نہیں رکھتا جتنی دود کے لئے ایک چھوٹے بچے کا رونا رکھتا ہے۔بچہ کے رونے سے دودھ نہیں آتا بلکہ اُس کا رونا دودھ ملنے کے لئے محرک ہوتا ہے۔اسی طرح ہمارے مشورے اور ہماری کوششیں خدا تعالیٰ کے فضل کے لئے محرک ہو سکتی ہیں ورنہ ہم خود کچھ نہیں کر سکتے۔روده