خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 572

خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء نا اُمیدی اور مایوسی نے ان میں جنون پیدا کر دیا ہے۔یا پھر ایسے لوگوں کی اُمید میں قائم ہیں جنہوں نے دین اور تقویٰ کو ترک کر دیا ہے۔ان کا یہ مقصد نہیں کہ دُنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کریں گے بلکہ یہ ہے کہ بڑے بڑے صناع، بڑے بڑے موجد پیدا کریں گے۔ہمارا مقصد مگر ہمارا یہ مقصد نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ عمارتیں کھڑی کریں جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کھڑی کی گئی تھیں اور جن کے متعلق سورہ نور میں آتا ہے کہ في بُيُوتٍ أَذِنَ الله أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ ، خدا تعالیٰ ان گھروں کو بلند کرتا ہے جن میں اس کا نام بلند کیا جائے۔اس وقت دُنیا کے پردہ پر کوئی ایک بھی انسان ایسا نہیں ہے سوائے احمدیوں کے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی نیکی اور تقویٰ قائم کرنا چاہتا ہو۔ایسے لوگ تو نظر آئیں گے جو بینک اور کا رخانے قائم کرنے والے ہوں گے، دُنیوی عیش و آرام کے سامان فراہم کرنے والے ہوں گے، ڈ نیوی مال و دولت جمع کرنے والے ہوں گے، ایسے لوگ مجنون بھی ہوں گے اور حوصلہ مند بھی ، مگر ایسے نہ ہوں گے جو یہ کہیں کہ ہم دُنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کر دیں گے۔پس جس کام کے لئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں وہ قلوب کی اصلاح ہے، لوگوں کے دلوں میں خشیت اللہ پیدا کرنا ہے، ایسی قربانی اور ایثار کی روح پیدا کرنا ہے کہ جس کے معاوضہ کا خیال تک دل میں نہ آئے ، خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق پیدا کر دینا ہے۔یہ دُنیا میں نہ قائم ہے اور نہ کسی کو اس کے قائم ہونے کی اُمید ہے۔دُنیا اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کے دل یہ باور ہی نہیں کر سکتے کہ دُنیا کے اندر دین بھی ہوسکتا ہے۔ایک دفعہ ایک مقدمہ میں کسی نے مجھے گواہ لکھا دیا۔جب میں گواہی دینے کے لئے گیا تو وکیل نے پوچھا آپ کا سالانہ جلسہ کہاں ہوتا ہے؟ میں نے جگہ بتائی۔پھر اُس نے پوچھا فلاں سے جو زمین خریدی گئی ہے وہ جلسہ گاہ سے کدھر ہے؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں۔مجھے اُس وقت کا نظارہ ابھی تک نہیں بُھولا۔وکیل نے مجسٹریٹ کی طرف دیکھ کر اس طرح سر ہلایا کہ اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہوسکتا۔گویا اُس کے نزدیک کوئی ایسا زمیندار ہو ہی نہیں سکتا جسے اپنی زمین کا پتہ نہ ہو۔عظیم الشان کام تو ہمارے سامنے عظیم الشان کام ہے۔اتنا عظم الشان کہ اس زمانہ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور جب ملتی تھی اس وقت بھی یہ کام