خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 566

خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء نمائندے ہیں اپنی جماعتوں کے سب لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جولوگ با وجود کوشش کے بیدار نہ ہوں اُن کے متعلق بر وقت مرکز میں اطلاع دیں۔مجھے اس بات کا بھی افسوس ہے کہ مجلس مشاورت میں پچھلے سالوں میں جو سٹینڈرڈ رہا ہے وہ اب کے پھر گر گیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ معقول بولنے والے بھی تھے مگر ایسے بھی تھے جن کی گفتگو محض نکتہ چینی اور مذاق کے رنگ میں تھی۔معلوم ہوتا ہے جو نئے ممبر آئے ان کی وجہ سے بعض پرانے ممبر بھی طریق گفتگو بھول گئے۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ کے مشورے وقار اور متانت والے ہوا کریں گے جن پر دوسرے لوگ رشک کریں گے۔ہوزری کی سکیم پھر ایک اور بات کی طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ مجلس مشاورت میں ہی ایک سکیم ہوزری کی تجویز ہوئی تھی۔اس وقت تک اس کے حصص فروخت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پانچ ہزار حصوں کے مہیا ہونے کی ضرورت ہے لیکن اِس وقت تک ۲۲ سو حصے فروخت ہوئے ہیں۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی اپنی جگہ جا کر اس کام کو دینی کام سمجھ کر سر انجام دیں۔اور اس کو کامیاب بنانے میں حصہ لیں۔بعض کہتے ہیں مذہبی جماعت کو بزنس سے کیا تعلق؟ وہ بزنس مین نہ سہی، زمیندار یا ملازمت پیشہ ہی سہی مگر جماعت کی اقتصادی اور مالی حالت کو درست اور مضبوط کرنا ان کا فرض ہے یا نہیں؟ ہر ایک احمدی کا یہ فرض ہے۔پس دوست جا کر اپنی اپنی جماعت میں اس کے حصے فروخت کریں۔دس روپے کا ایک حصہ ہے جو معمولی بات ہے۔اگر کام کو کام سمجھ کر کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس میں کامیابی نہ ہو۔ایک لاکھ حصہ کا فروخت ہو جانا بھی کوئی مشکل بات نہیں ہے بشرطیکہ اسے دینی کام سمجھ کر کیا جائے اور جماعت کی مالی و اقتصادی ترقی کی بنیاد قرار دیا جائے۔پس اسے مذہبی ، تمدنی اور سیاسی فرض سمجھ کر ہر شخص جو حصہ لے سکتا ہے لے اور اپنی طاقت کے مطابق لے۔میں نے حال ہی میں مکان بنوایا ہے۔اگر چہ کمیٹی میں میرا حصہ نکل آیا مگر اس حصہ کی قسط ادا کرتا ہوں مگر باوجود اس کے جبکہ خرچ خوراک میں بھی کمی کرنی پڑی ہے پانچ سو روپیہ میں نے اس فنڈ میں دیا ہے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا ہے کہ اگر خدانخواستہ فیکٹری ٹوٹ بھی جائے تو کیا ہے جماعت کی بہتری کے لئے کوشش کی گئی ہے۔