خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 565
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء پس اللہ تعالیٰ سے ہمارا سودا ہو چکا ہے اس لئے ہمارے دوستوں کو اپنے کاموں میں احتیاط ملحوظ رکھنی چاہئے۔اگر کسی نے جنت کے مطابق عمل کر لئے تو وہ بری ہوسکتا ہے لیکن اگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی نہیں کہا کہ آپ اعمال سے بری ہو گئے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ عرض کیا جب خدا تعالیٰ نے آپ سے کہہ دیا ہے کہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں تو رات کو اتنی اتنی دیر عبادت کے لئے آپ کیوں کھڑے رہتے ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا کیا میں عبد شکور نہ بنوں 11 پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے متعلق سمجھتے ہیں کہ آپ اس حد کو نہیں پہنچے کہ خدا تعالیٰ سے کہہ سکیں میں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی تو اور کون کہہ سکتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے جب آپ فوت ہونے لگے تو ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔الہی ! میں کوئی انعام نہیں چاہتا۔صرف یہ چاہتا ہوں کہ میری کوتاہیوں پر مجھ سے گرفت نہ ہو۔میرے لئے یہی انعام بہت بڑا ہے کے اگر اُن کا یہ معیار ہے کہ دین کی بہت بڑی خدمات کر کے بھی اپنے آپ کو قاصر سمجھتے تو عوام اگر یہ سمجھیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی تو بہت بڑی کوتاہی اور غفلت کی بات ہو گی۔ہمارے اندر جو لوگ کوتا ہی کرنے والے ہیں ان کی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم خود اپنا فرض ادا کرتے ہیں تو دوسروں کی کوتاہی کو دُور کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی میں سفید بال آگئے تو آپ نے فرمایا سُورۃ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے کیونکہ اس میں دوسروں سے متعلق ذمہ داری ڈالی گئی ہے تو دوسروں کی ذمہ داری کو بھی جماعت کے نمائندے سمجھیں اور یہ نہ ہو کہ یہاں جمع ہونا شغل کی طرح ہو یا اُس دیو کی طرح جس کے متعلق مشہور ہے کہ جو چھ ماہ کے بعد جا گا کرتا تھا۔میں نے کھلے طور پر جماعت کے ہر شخص کی ذمہ داری بتا دی ہے۔اس کے بعد کوتا ہی کرنے والوں کے متعلق ایکشن لوں تو پھر کسی کو شکایت نہ ہونی چاہئے۔بے شک اس زمانہ میں جنت قریب کر دی گئی ہے مگر جہنم کو بھی قریب کر دیا گیا ہے۔اسلام کی رُوح کو، اسلامی تمدن کو ، اسلامی اقتصاد کو ، اسلامی معاشرت کو کچلنے کے لئے دُنیا کھڑی ہے اس وقت کسی کو کوتا ہی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔آپ سب صاحبان کو جو جماعتوں کے