خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 567
خطابات شوری جلد اوّل ۵۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء پس احباب کو اس اقتصادی حالت کو مضبوط بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ہماری جماعت میں تاجر بہت کم ہیں حالانکہ تجارت اقتصادی ترقی کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔ہوزری کے کام کو ضرور کامیاب بنانا چاہئے۔جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ ایک مہینہ کے اندر اندر پانچ ہزار حصے پورے کر دیں تا کہ کام شروع کر دیا جائے۔بجٹ کے متعلق بجٹ کے خرچ کی منظوری کو سب کمیٹی کے مشورہ تک ملتوی کرتا ہوں اور بجٹ آمد کو اس تبدیلی کے ساتھ منظور کرتا ہوں کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں جو بقایا کسی جماعت کے ذمہ رہ گیا ہے اُسے اس سال کے بجٹ میں زائد کر دیا جائے کیونکہ وہ اُن کے ذمہ قرض ہے جسے ادا کرنا اُن کا فرض ہے۔اگر کسی جماعت کا بجٹ صحیح نہیں رکھا گیا اور اس کے ثبوت میں اُس کے پاس کوئی معقول وجہ ہو تو اُسے تین ماہ کے اندر اندر پیش کر کے فیصلہ کر لیا جائے ورنہ اگر بجٹ پورا نہ کیا گیا تو جو باقی رہے گا وہ اگلے سال کے بجٹ میں پھر ڈال دیا جائے گا۔چندہ کشمیر چندہ کشمیر کے متعلق کہا گیا ہے کہ میں اس موقع پر تحریک کروں۔احباب کو معلوم ہونا چاہئے یہ کام ابھی جاری ہے اور ہمارا فرض ہے کہ جب تک معاملات روبہ اصلاح نہ ہو جائیں اسے جاری رکھیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک کام بہت مفید ہوا ہے۔دوستوں کو آئندہ بھی کام جاری رکھنے کے لئے چندہ جمع کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اب میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید ہمارے شاملِ حال رکھے اور دعا اب ہمارے لئے وہی وقت ہے جو بدر میں صحابہ کرام پر آیا تھا۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔اَللَّهُمَّ اِنْ اَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ اَبَدًا لے کہ اے خدا! اگر یہ تھوڑے لوگ ہلاک ہو گئے تو زمین پر تیری پرستش کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔اسی طرح ہم کہتے ہیں اگر سلسلہ کو دشمنوں نے تباہ کر دیا تو اے خدا! پھر تیرا نام لینے والا دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں اور قصوروں کو معاف کرے اور جلد سے جلد اسلام کی فتح ہمارے ہاتھوں سے کرائے۔(آمین ) ( مطبوعہ رپورٹ مجلس مشاورت اپریل ۱۹۳۳ء )