خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 31
خطابات شوری جلد اوّل ۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صاحب کو مقرر کرتا ہوں۔اگر اُنہیں نام معلوم نہ ہوں تو پوچھ لیں۔انہوں نے زندگی وقف کی ہے خدمت دین کے لئے اس لئے انہیں ایسی واقفیت بہم پہنچانی چاہئے کہ سب کے نام معلوم ہوں وہ سوال یہ ہیں جو میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔(۱) امیروں کا تقرر مفید ہے یا نہیں؟ (۲) اس کے لئے جماعتوں کو مجبور کیا جاوے یا ان کی مرضی پر چھوڑا جائے؟“ حضور کے اس ارشاد کے بعد ان دو سوالوں کے بارہ میں کچھ ممبران نے موافق یا مخالف اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا۔اس بحث کے بعد حضور نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔چونکہ اس مسئلہ کے متعلق کافی بحث ہو چکی ہے اور میں نے دونوں سوالوں کو اپنی رائے کے بغیر اس لئے چھوڑ دیا تھا کہ دوسروں کی رائے سُن کر بیان کروں اس لئے اب بیان کرتا ہوں۔پہلے اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اس مجلس شوری کے قیام سے بہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ مجالس شوری کے آداب سے بہت کچھ نا واقف ہیں۔کل میں نے سمجھایا تھا کہ صرف بولنے کی خواہش سے نہیں بولنا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ بولنا مفید ہے یا نہیں اور پھر بولنا چاہئے۔لیکن بوجہ مجبلت کے جو حکومت کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے یونہی بول پڑتے ہیں۔شاید کہ اپنے ہی خیالات میں محو ہوتے ہیں دوسرے کی سنتے ہی نہیں اس لئے ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو پہلے بیان کر چکتے ہیں۔اب مختلف خیال کا خلاصہ بیان کرتا ہوں جو ان تقریروں سے میں سمجھا ہوں۔پہلا سوال یہ تھا کہ امیروں کا تقرر مفید ہو گا یا نہیں۔اور دوسرا یہ کہ تقر ر لازمی ہو یا نہ۔تقریریں کرنے والے ان دو سوالوں کو علیحدہ علیحدہ نہیں کر سکتے۔بعض دوست ایک کو بیان کر کے دوسری کی طرف چلے جاتے رہے ہیں۔خلاصہ ان خیالات کا یہ ہے کہ :- (۱) بعض لوگوں کے نزدیک امیر کا قیام اس لئے ضروری ہے کہ اُس کے ذریعہ فساد دُور ہوتے ہیں۔وہ نمونہ ہوتا ہے ذمہ واری کے احساس سے۔(۲) انجمن کے پریذیڈنٹ کے فرائض محدود ہوتے ہیں اس کا تعلق ان امور سے جو ایجنڈا میں ہوں ہوتا ہے یعنی پریذیڈنٹ کا تعلق اتنے ہی وقت کا ہوسکتا ہے جب کہ انجمن ہو رہی ہو بعد میں نہیں ہوتا۔لیکن جماعت کو ایسی باتوں کی ضرورت ہے کہ جو انجمن میں نہیں -