خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 30
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء خراب عادت والا ہو یا بد معاملگی کرے تو شور پڑ جاوے کہ اس نے کتنا بُر افعل کیا ہے اور جماعت گھبرا جاوے۔جب تک یہ احساس نہ ہو اُس وقت تک وہ کام جس کے لئے مسیح موعود آئے یعنی لِيُظْهِرَ عَلى الدين كلم ل نہیں ہوسکتا۔یہ کام ہیں جن کے متعلق مشورہ لینا ہے۔یہ باتیں ہیں جو سمجھائی ہیں ان کو یا د رکھیں۔ان کو بھلائیں نہیں۔اب مشورہ ہوگا جو تجاویز ہوں اُن پر عمل کریں۔اب کمیٹیاں مقرر ہوں گی جو مناسب تجویزیں بتلائیں گی جو کل پیش ہوں گی۔اور کل پھر اسی طرح ہم بیٹھیں گے اور پاس کرتے جاویں گے۔“ دوسرا دن مشاورت کے دوسرے دن مؤرخہ ۱۶۔اپریل ۱۹۲۲ء کو جب اجلاس شروع ہوا تو حضور نے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:- کل میں نے مشورہ کے وقت جن اُمور کو یاد رکھنا ضروری ہے اُن پر تقریر کی تھی۔کل تو مشورہ کا وقت نہیں ملا تھا سب کمیٹیاں کام کرتی رہیں تھیں۔آج وہ تجاویز جو سب کمیٹیوں نے پیش کی ہیں پڑھی جاویں گی اور ان پر رائے لی جائے گی اس لئے پھر توجہ دلا دیتا ہوں کہ احباب اُن باتوں کو مد نظر رکھیں جن پر کل میں نے تقریر کی تھی۔جو تجویزیں آئی ہیں اُن کے متعلق قرعہ ڈالا گیا ہے۔پہلے تالیف واشاعت کا صیغہ نکلا ہے۔پھر جس طرح نام نکلیں گے سُنا ئیں گے۔تجویز یہ ہے کہ سب کمیٹی کی رپورٹ سُنائی جاوے پھر دوبارہ پڑھا جائے اور ایک ایک ٹکڑہ لیا جائے اور اس پر رائے لی جائے۔پیشتر اس کے کہ وہ تجویزیں پڑھی جائیں دو سوال ایسے ہیں کہ کمیٹیوں کے لئے انہیں نہیں رکھا اُن کو علیحدہ رکھا تھا۔اُن کو پہلے پیش کرتا ہوں۔کل میں نے بتایا تھا کہ مشورہ کے طریق کے متعلق کہ جب رائے مانگی جائے تو جو تبدیلی یا کمی یا زیادتی ہو وہ بیان کریں اور دلائل دیں۔بولنے کی یہ ترتیب ہوگی کہ جو پہلے کھڑے ہوں وہ پہلے بولیں جو بعد میں کھڑے ہوں بعد میں بولیں۔اگر کئی شخص ایک دفعہ کھڑے ہوں تو ایک صاحب مقرر ہوں جو نام لکھیں اور ترتیب وار اُنہیں بولنے کے لئے کہتے جائیں۔اس کام کے لئے چوہدری نصر اللہ خان