خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 520

خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء اپنی کیفیت بیان نہیں کرتا ور نہ حقیقت یہ ہے کہ روحانیت کے بغیر سلسلہ ہی بیچ ہے۔تم سکول بناؤ، کالج بناؤ، یونیورسٹی بناؤ، کچھ بناؤ اگر تمہارے مدنظر یہ بات نہیں کہ یہ سب ضمنی باتیں ہیں، اصل مقصد خدا تعالیٰ کا قرب اور اُس کا فضل حاصل کرنا ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔تمام قسم کی ترقیوں کے باوجود اگر تم اپنے اندر تذلل نہیں محسوس کرتے تو پھر کوئی ترقی ترقی نہیں بلکہ تنزّل ہے۔بیداری نہیں بے ہوشی ہے، زندگی نہیں موت ہے۔اس کو مدنظر رکھنا اور اس کے پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا اولین فرض ہے۔اصل کوشش اس بات کی ہونی چاہئے کہ نفسوں کے اندر یہ باتیں پیدا ہو جائیں۔میں کبھی کبھی اشعار میں جو بظاہر عشقیہ معلوم ہوتے ہیں خاص باتوں کی طرف اشارہ کر جاتا ہوں۔میں نے ایک شعر میں اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔؎ خلق و تکوین جہاں راست پر سچ پوچھو تو بات تب ہے کہ میری بگڑی بنائے کوئی یعنی دُنیا کی ترقی مجھے کیا نفع دے سکتی ہے اگر میرے اندر کوئی ترقی نہیں پیدا ہوئی۔اس میں میں نے جماعت کو یہ بتایا ہے کہ ہمارے مدنظر یہ مقصد ہو کہ ہم کو یہ چیز حاصل ہو۔اگر ہمیں حاصل نہیں تو پھر ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص تو ریوڑیاں کھا رہا ہے اور دوسرا منہ چڑا رہا ہے۔اس نقال کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ بجائے دوسرے کے منہ کی شیرینی پر منہ مارنے کے اس کے منہ میں شیرینی آجائے۔پس ہر احمدی کوروحانیت کی ترقی کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے سامنے بہت بڑا مقصد ہے۔جہاں تک روحانیت کی ترقی میں روک ہے وہ یہی ہے کہ لوگ اس مقصد کو مدنظر نہیں رکھتے اور ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں ایک شخص حق پر ہوتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں اس بات میں اس شخص کا پڑنا اس کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی مضر ہوتا ہے۔اُس وقت میں اُسے کہتا ہوں اِس حق کو چھوڑ دو۔اس پر وہ سمجھتا ہے کہ میں اُس سے اُس کا حق چھڑاتا ہوں مگر میں حق نہیں چھڑاتا بلکہ اعلیٰ مقصد کی طرف اسے لے جانا چاہتا ہوں اور اس بات کے پیچھے پڑنے سے جو نقص پیدا ہونا ہوتا ہے اُس سے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں۔پس دوستوں کو اعلیٰ مقصد کو مدنظر رکھنا چاہئے اور اُس کے لئے بڑی عظیم الشان