خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 519
خطابات شوری جلد اوّل ۵۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء لیا جائے وہ سکیم بنا کر پیش کریں تا کہ میں اُس پر غور کر سکوں۔اب مجلس مشاورت کا کام ختم ہو گیا ہے اور غالباً یہ پہلی مجلس شوریٰ ہے جس میں سارا ایجنڈا ختم کیا گیا ہے۔پہلے ضرور کچھ نہ کچھ بقایا رہ جایا کرتا تھا۔“ اختتامی تقریر اب میں آخری چند کلمات یا ممکن ہے زیادہ ہو جائیں کہہ کر اس کا رروائی کوختم کروں گا اور پھر دُعا کی جائے گی۔پہلی بات میں دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اصل چیز روحانیت ہے اگر اس کی طرف توجہ نہ کی جائے تو جس غرض کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ باطل ہو جائے گی۔جب ہم تدابیر اختیار کرتے ہیں یا قانون بناتے ہیں تو یہ بات ہمارے مدنظر ہونی چاہئے کہ یہ سب ضمنی باتیں ہیں اور انہیں ہم اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ ان کے اندر روحانیت کو مخفی کر دیا گیا ہے یا ان سے وابستہ کر دیا گیا ہے لیکن جس وقت ہم ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ہمارے خیالات روحانیت سے ہٹ کر مادیات کی طرف چلے جاتے ہیں اور ہم اس خطرہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ روحانیت ٹوٹ نہ جائے اس لئے ہمیں ہمیشہ بیدار رہنا چاہئے۔گو ہم مادیات پر گفتگو کرنے کے لئے مجبور ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہم ایسا کرتے ہیں۔چونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تدابیر سے کام لو اس لئے ہم ان سے کام لیتے ہیں ورنہ کامیابی کے لئے خدا تعالیٰ پر ہی ہمارا تو کل ہے۔اگر ہم ہر وقت اپنے دل میں یہ خیال نہ رکھیں گے تو ہمارے دماغ مادی طور پر غور کرنے کے عادی ہو جائیں گے اور روحانیت تباہ ہو جائے گی۔خوب یاد رکھو ہمارے سارے کام خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی چلتے ہیں۔میں اس قسم کے دعوے نہیں کیا کرتا کہ مجھے یہ کشوف اور یہ رویا ہوئے۔ماً موروں کے لئے تو ضروری ہوتا ہے کہ ایسا کریں مگر دوسروں کے لئے ضروری نہیں ہوتا مگر کئی لوگ ایسا کرتے ہیں۔مجھے ہمیشہ سے اس بارے میں حجاب رہا ہے اور بجائے اس کے کہ اس بارے میں اپنے لمبے تجربے سُناؤں میں یہی چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا دوسروں سے بھی ایسا ہی سلوک ہو اور وہ بھی اسی طرح لذت حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے حصہ لیں لیکن بعض طبائع سمجھتی ہیں جو شخص جس چیز کا دعویٰ نہ کرے اُس میں وہ ہوتی ہی نہیں۔اس لئے میں کہتا ہوں روحانیت سے میں ناواقف نہیں ہوں ، شرم کی وجہ سے