خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 518
خطابات شوری جلد اوّل ۵۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء غلطیوں سے بچنے کے لئے یہی طریق اختیار کیا جا سکتا ہے۔پس ہم اپنے سکولوں میں وہی ڈگریاں رکھیں گے جو سرکاری طور پر تسلیم کی جاسکیں لیکن اس سے زائد بھی تعلیم دلائیں گے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کہ تم زائد تعلیم کیوں دیتے ہو۔ایک بات اعلیٰ درجہ کی ماسٹر سعد الدین صاحب نے پیش کی ہے کہ ہم سلسلہ کی کتابوں کا امتحان جاری کریں گے مگر صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی کئی ایک اہم باتیں ہیں۔مثلاً یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پر علمی طور پر غور نہیں ہو رہا یعنی ایک مضمون جہاں جہاں آیا ہو، وہاں سے اکٹھا کیا جائے اور پھر نتیجہ نکالا جائے۔جہاں کوئی اختلاف نظر آئے اُس کے متعلق غور کیا جائے کہ اُس کے دور کرنے کی کیا صورت ہے۔یہ کام یو نیورسٹی ہی کر سکتی ہے اور اس طرح علمی طور پر بھی خدمت ہوسکتی ہے۔پس میرے نزدیک ایسا محکمہ ہونا چاہئے جس کے نہ ہونے کی وجہ سے کئی ایک نقائص ہیں جو چلے جا رہے ہیں اور تعلیم کا سخت نقصان ہو رہا ہے مثلاً مدرسہ احمدیہ میں انگریزی کی تعلیم رکھی گئی تھی لیکن اوپر نگرانی نہیں ہوتی اس لئے اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔کئی سال سے یہ سکیم جاری ہے مگر اس وقت ایک طالب علم بھی پیش نہیں کیا جا سکتا جس نے انگریزی کا مقرر کردہ سٹینڈرڈ حاصل کر لیا ہو۔دوسرا نقص یہ ہے کہ ترقی تعلیم کی طرف توجہ نہیں کی جا سکتی۔جو لوگ سکولوں میں پڑھاتے ہیں وہ سکیمیں نہیں سوچ سکتے۔نتیجہ یہ ہے کہ آج سے ۱۵ سال پہلے سکول جن لائنوں پر چلایا گیا تھا، اب بھی اُنہی پر چل رہا ہے۔اس کے لئے الگ دماغ ہونے چاہئیں جو ان باتوں پر غور کریں اور ان میں ترقی کی سکیمیں پیش کریں۔بعض دوستوں نے خرچ کا سوال اُٹھایا ہے۔کوئی خرچ ہو یا نہ ہو، سوال یہ ہے کہ ایسے محکمہ کی ضرورت ہے یا نہیں۔اگر ضرورت ہے تو خرچ کے ڈر کی وجہ سے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔میں نے یہ باتیں اس لئے بیان کی ہیں کہ آئندہ جو ڈھانچہ تیار کیا جائے اس کی تیاری کے وقت ان کو مدنظر رکھ لیا جائے۔یہ بھی مدنظر رکھ لیا جائے کہ ہم زیادہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔بغیر اخراجات میں زیادہ اضافہ کرنے کے ایسے لوگ جو دیندار ہوں جو دینی تعلیم سے واقف ہوں اور عام تعلیم سے بھی واقف ہوں اُن کو اس کمیٹی میں شامل کر