خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 514
خطابات شوری جلد اوّل ۵۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء اصل بات یہ ہے کہ اس تجویز کو ہم دو نقطہ نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں ایک وقتی اور سیاسی حالات کے ماتحت اور یہ بہت محدود نقطہ نگاہ ہے۔کیونکہ وقتی اور سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں۔لیکن جب یہ حالات پیدا ہوں تو ان کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ان کے علاوہ ایسے حالات ہیں جن کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ مستقل تربیت کی ضرورت ہے۔جس سے کبھی کوئی جماعت مستغنی نہیں ہوسکتی۔نیک خاندانوں میں شریر اور شریر خاندانوں میں نیک لوگ پیدا ہو جاتے ہیں۔نو جوانوں کو خطرہ میں پڑنے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی صحیح طور پر تربیت کی جائے۔مگر اس میں دقت یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں جوش ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی تربیت کریں۔ان کے سامنے نہ لڑکے ہوتے ہیں اور نہ لڑکوں کے جرائم۔نہ لڑکوں کی نیکیاں ہوتی ہیں اور نہ ان کی غلطیاں۔ایک جماعت کا مقامی امیر اپنی جماعت کے لڑکوں کی تربیت کر سکتا ہے مگر لڑکوں کی برائیاں اور نقائص اس کے سامنے نہیں آتے۔اگر ہر جگہ والنٹیر کور بنالیں۔(اور یہ کام ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ایک لمبے عرصہ اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہے ) تو اس سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ ایک وقت میں جماعت کی تربیت کی طرف نگاہ رکھنے والے آدمیوں کے سامنے سارے نوجوان آجایا کریں گے اور وہ ان کو نصائح کر سکیں گے۔مذہبی اور اخلاقی وعظ کیا جا سکے گا۔گویا اس طرح تربیت اور نصائح کرنے کے مواقع زیادہ ملنے لگ جائیں گے۔اس کے علاوہ ایک دوسرے کے ذریعہ نگرانی بھی کرائی جا سکے گی۔جب کسی لڑکے کے متعلق شکایت ہو کہ اس میں یہ نقص ہے تو کور کے افسر کے ذریعہ اس کی اصلاح آسانی سے کرائی جا سکتی ہے کیونکہ وہ اپنے ماتحت لڑکے کی نگرانی کر سکتا ہے اور دوسرے لڑکوں کے ذریعہ نگرانی کرا سکتا ہے۔عام طور پر نگرانی اس لئے نہیں کی جاسکتی کہ اپنے طور پر جب ایک لڑکا دوسرے لڑکے کو دوست بنائے گا تو اپنے ہی رنگ کے لڑکے کو بتائے گا۔یعنی بدمعاش لڑکا بدمعاش کو ہی دوست بنائے گا لیکن کور میں اس کے اختیار میں نہ ہو گا کہ جس سے چاہے دوستی کرے بلکہ کور کا افسر جسے چاہے گا اس کا ساتھی مقرر کر دے گا اور اس طرح آوارہ لڑکوں کو شریف لڑکوں کے سپرد کر کے ان کی نگرانی اور اصلاح کرائی جا سکتی ہے۔