خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 513

خطابات شوری جلد اوّل ۵۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء احمدیہ یہ کور کی تجویز جناب پیرا کبر علی صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ ایک احمدیہ والنٹیر کور بنائی جائے اور کوشش کی جائے کہ احمدی نوجوان اس کو ر میں داخل ہوں۔اس تحریک کو کلی طور پر منتظم کیا جائے اور جلسوں کے انتظام اور دیگر رفاہ عام کے کاموں میں ان سے مدد لی جایا کر۔کرے۔اس کور کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے بچوں میں فوجی سپرٹ پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔جلسوں اور رفاہِ عامہ کے کاموں میں تنظیم سے نوجوان کام کریں گے اور اس سے بہت فائدہ ہوگا۔بعض ممبران شوری کے اظہارِ خیال کے بعد حضور نے فرمایا : - ” نو جوانوں کی لازمی شرط نہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ اس عمر والوں کو تو زور دے کر شامل کیا جائے اور جو باقی شامل ہوں ان کو بھی شامل کر لیا جائے۔“ ایک صاحب نے رائے دی کہ یہ کام انصار اللہ کے سپرد کر دیا جائے۔اس پر حضور نے فرمایا: - انصار اللہ تو خالص تبلیغی نظام ہے۔احباب نے تجویز سن لی ہے۔اس میں نو جوانوں کا ذکر خصوصیت سے اس لئے کیا گیا ہے کہ ایسی عمر والوں سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے اور ان کی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے جماعت کو کوشش کرنی چاہئیے کہ اس عمر کا کوئی آدمی اس کو ر میں شامل ہونے سے رہ نہ جائے۔ان کے علاوہ دوسرے جو لوگ شامل ہونا چاہیں وہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔جو لوگ اس کی تائید میں ہیں کہ ایسی والنٹیر کور بنائی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔باقی جو دوستوں نے تجاویز پیش کی ہیں وہ ترمیمات نہیں ہیں بلکہ کام کی تفصیل ہے جس پر بعد میں کام کرنے والے غور کر سکتے ہیں۔“ ۲۴۳ را ئیں شمار کی گئیں۔” جو دوست اس تجویز کے خلاف ہوں اور جن کے نزدیک کسی مصلحت کی وجہ سے کور نہ بنائی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔کوئی کھڑا نہ ہوا۔فیصلہ میں اس تجویز کو اتفاق رائے کے مطابق منظور کرتا ہوا البعض خیالات ظاہر کرنا چاہتا ہوں :-