خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 512
خطابات شوری جلد اول ۵۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء میں بھی احمدیوں کی بھرتی کی طرف توجہ کی جائے۔ یہ معقول بات ہے۔ جہلم کی طرف جب یہ بھرتی ہوئی تو ادھر توجہ نہیں کی گئی۔ وہاں صرف ایک پلاٹون احمدیوں کی بنائی گئی گو وہ بھی نام ہی کی تھی کیونکہ اس میں بھی غیر احمدی شامل تھے ۔ کیونکہ احمدی اس وقت نہیں ملے تھے۔ حالانکہ اس علاقہ کے لوگ فوج میں زیادہ ملازمت کرتے ہیں ۔ امور عامہ کو وہاں کے متعلق بھی خیال رکھنا چاہئیے اور وہاں بھی زیادہ سے زیادہ احمدیوں کو بھرتی کرایا جائے ۔ اس طرح جب وہاں احمدی زیادہ ہو جائیں تو پھر ان کا غلبہ ہو جائے گا ۔ اس تدبیر سے وہاں رستہ نکالا جاسکتا ہے۔ فیصلہ ان ہدائتوں کے بعد میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ کہ جماعت کے دوست چونکہ چاہتے ہیں کہ ٹیریٹوریل فورس میں بھرتی کی طرف توجہ کی جائے مگر وقت یہ بتائی گئی ہے کہ بھرتی کے لئے اطلاع نہیں ملتی ۔ اس لئے محکمہ اس طرف توجہ کرے کہ وقت پر جماعتوں کو اطلاع دے۔ اسی طرح محکمہ یہ کوشش کرے کہ احمدیوں کی ایک کمپنی کی بجائے دو کمپنیاں بن جائیں ۔ احباب کو چاہیے کہ بھرتی کے موقع پر زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو بھرتی کرایا جائے۔“ قادیان میں ٹریننگ کلاس تیسری تجویز کے ضمن میں ہی ایک یہ تجویز تھی کہ جو نوجوان ٹیریٹوریل فورس میں بھرتی ہو کر ٹریننگ حاصل کریں ۔ ان میں سے بعض کے لئے قادیان میں ایک یا دو ماہ کے لئے ٹرینینگ کلاس جاری کی جائے تا کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کو ٹر ینگ دے سکیں ۔ کہ وہ کوٹرینگ اس کے متعلق ایک نمائندہ کے اظہار رائے کے بعد حضور نے فرمایا:- چونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس پر کوئی زائد خرچ نہ ہوگا اور یہ پہلی تجویز کے پورا بتایا کرنے کا ذریعہ ہے نہ کہ نئی تجویز ہے پس اس کے متعلق رائے لینے کی ضرورت نہیں۔ جو نو جوان قادیان میں آسکیں وہ آکر ٹریننگ لیں اور اس تجویز پر عمل کیا جائے ۔“ 66