خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 511
خطابات شوری جلد اوّل ۵۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء کیوں فوج میں بھرتی ہونا چاہئیے۔اس لئے کہ قوم اور ملک خطرہ میں ہے۔کون لوگ شامل ہو سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں عمر، قد وغیرہ کا ذکر ہوتا۔کب بھرتی ہو سکتے ہیں؟ اس کے لئے تاریخ درج کی جاتی۔کہاں بھرتی ہونا چاہیے؟ اس کے لئے مقام وغیرہ کی تشریح ہوتی۔اس قسم کی باتیں درج ہوں جو مختصر فقروں میں ہوں نہ کہ لمبی عبارتیں لکھی جائیں۔ٹریکٹ تمام ضروری امور پر حاوی ہو۔یعنی چند ہیڈنکس تجویز کئے جائیں اور ایک ایک سطر میں ان کے جواب درج کئے جائیں۔ایسا ٹریکٹ ایک ہزار کی تعداد میں شائع کیا جائے اور ہر جگہ کی جماعت کو بھیج کر کہا جائے کہ احباب کو جمع کر کے سُنا دیا جائے۔اس طرح اس کی کافی اشاعت ہو سکتی ہے۔۲۵/۲۶ روپے اور حد سے حد میں روپے تک کے خرچ میں یہ کام ہو سکتا ہے۔یہ ٹریکٹ ہر سال جماعتوں میں جائے۔اس طرح یہ تحریک جاری رکھی جاسکتی ہے۔بعض نے شکایت کی ہے کہ چونکہ بھرتی ہونے والوں کو سارا سال تنخواہ نہیں ملتی اِس لئے لوگ بھرتی نہیں ہوتے مگر یاد رکھنا چاہئے۔یہ ٹیریٹوریل فورس کا ذکر ہے عام فوج کا نہیں۔عام فوج بھرتی ہونے والوں کو بارہ ماہ میں تنخواہ دیتے ہیں۔ٹیریٹوریل فورس وہ ہے کہ ہندوستانیوں کی اس درخواست پر کہ فوجی ٹریننگ کا ہمیں موقع نہیں دیا جاتا۔حکومت نے اپنی خواہش کے خلاف بنائی ہے۔اب اس کے متعلق یہ مطالبہ کرنا کہ بارہ ماہ تنخواہ ملے۔ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کسی سے کہے کہ مجھے نشانہ سکھاؤ اور جب وہ سکھائے تو اسے کہا جائے مجھے نشانہ سیکھنے کی مزدوری دو۔یا ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک سرد ملک کا آدمی سایہ میں بیٹھا تھا۔اسے کسی نے کہا میاں دھوپ میں جا بیٹھو۔وہ کہنے لگا دھوپ میں بیٹھنے پر کیا دو گے۔تو یہ حکومت نے رعائت کی ہے کہ ٹیریٹوریل میں فوجی ٹریننگ سیکھنے والوں کو ٹریننگ کے عرصہ کی تنخواہ دیتی ہے کیونکہ ٹریٹوریل فورس ہمارے مطالبہ پر جاری کی گئی ہے۔اس میں قومی روح کے ساتھ ہی لوگ جا سکتے ہیں کہ یہ ٹرینینگ صحت کے لئے اور قوم میں نظم کی روح پیدا کرنے کے لئے مفید ہے اور خطرہ کے وقت اپنی اور اپنی قوم کی حفاظت کر سکیں گے۔اس کے لئے ۱۲ ماہ کی تنخواہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہوسکتا۔ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب نے ایک بات کہی ہے اور وہ یہ کہ جہلم کی ٹیریٹوریل فورس