خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 504

خطابات شوری جلد اوّل ۵۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء میں اور ہندوؤں میں بہت فرق ہے۔اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ بجائے ایک کے دو دن تبلیغ کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں۔ایک دن احمدیت کی تبلیغ کے لئے اور ایک اسلام کی تبلیغ کے لئے۔اسلام کی تبلیغ سے میرا یہ مطلب نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر اس موقع پر نہ کیا جائے خواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات کے ذریعہ خواہ قرآن کریم کی خوبیوں اور حُسن کے ذریعہ خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نشانات کے ذریعہ۔غرض جو بات مناسب موقع ہو اس کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کی جائے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات اور معجزات کے ذریعہ ہندوؤں پر اسلام کی صداقت کا اثر ہوتا ہو تو انہیں پیش کیا جائے اور اگر پہلے مسائل کے ذریعہ اثر ہوتا ہو تو انہیں پیش کیا جائے۔غرض اس دن مخاطب ہندو ہوں۔مسلمان نہ ہوں ممکن ہے بعض کا خیال ہو کہ دو دن ایسی تبلیغ کا انتظام کرنا مشکل ہو گا مگر انتظام تو ایک دن کے لئے بھی مشکل ہو سکتا ہے اور جنہوں نے متعلقہ محکمہ کی آواز نہیں سنی وہ ایک دن کے لئے بھی نہیں سنیں گے اور جنہوں نے سنی ہے وہ دو دن کے لئے بھی سنیں گے۔پس میں دو دن مقرر کرتا ہوں یعنی ایک دن تو ایسا ہو جبکہ اہلِ ہنود کو مخاطب کیا جائے سکھوں اور عیسائیوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح جہاں دیگر مذاہب کے لوگ پائے جائیں انہیں بھی اسلام کی تبلیغ کی جائے اور دوسرا دن غیر احمدیوں کے لئے مخصوص ہو۔اس دن انہیں مخاطب کیا جائے بہر حال ایک دن مسلمانوں کے لئے ہو اور ایک دن غیر مذاہب کے لوگوں کے لئے۔خصوصیت سے ہندوؤں کو مخاطب کیا جائے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے کرشن بھی قرار دیا ہے اور بہت سے الہامات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں کی ترقی کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے پر منحصر رکھا ہے۔میں نے اپنی تقریر میں دن کا لفظ وقت کے معنوں میں استعمال کیا ہے نہ ان معنوں میں کہ ایک دن جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔اس کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔“