خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 503
خطابات شوری جلد اوّل فیصلہ ۵۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء میں اکثریت کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔جلسوں کے فوائد ہوتے ہیں مگر احمدی بنانے کے لئے جس بات کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سوال وجواب ہوں۔صرف تقریرین لینے والے کے لئے بسا اوقات وہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتے جو اس کے دل میں کھٹکتے ہیں اور نہ جواب اس کے سامنے بیان ہوتے ہیں لیکن انفرادی تبلیغ میں ہر شخص اپنی تسلی کرا سکتا ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ محکمہ ایسے قواعد بنائے کہ ہر احمدی اس دن تبلیغ میں مشغول ہو سکے اور کوئی رہ نہ جائے۔اس غرض کے لئے اس قسم کی فہرست بن جانی چاہئیے جس کے متعلق مثال دیتا ہوں کہ محکمہ ہر جماعت سے لسٹ مانگے جس میں یہ درج ہو کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جو گھر پر بلا کر دعوت یا چائے میں مدعو کر کے تبلیغ کریں گے ، کتنے ایسے ہیں جو بازار میں کھڑے ہو کر تبلیغ کریں گے۔جب اس قسم کی لسٹ بن جائے تو پھر اس کے مطابق کام دیکھا جائے ورنہ انفرادی تبلیغ ریت کے نیچے ایسا بہنے والا پانی ہے کہ جس کا پتہ بھی نہ لگے گا۔چند احمدی تو تبلیغ کریں گے اور باقی اس برہمن کی طرح جس نے پانی میں کنکر پھینک کر کہا تھا تو را شنان سومورا شنان سمجھ لیں گے کہ ان کی طرف سے بھی تبلیغ ہو گئی۔پس جہاں انفرادی تبلیغ میں فوائد ہیں وہاں بہت سے خطرات بھی ہیں بالکل ممکن ہے کہ جس مقصد کے لئے یوم التبلیغ مقرر کیا جا رہا ہے وہی فوت ہو جائے پس ایسی سکیم بنائی جائے کہ جس کے ماتحت نگرانی کی جاسکے عورتوں کی بھی اور مردوں کی بھی۔غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کی تجویز ایک بات میں اور کہنی چاہتا ہوں جو بہت اہم ہے مگر ادھر توجہ نہیں کی گئی اور وہ اہلِ ہنود میں تبلیغ اسلام ہے۔ہم اس مثل پر عمل کر رہے ہیں جو پنجابی میں ہے مگر ایسی دلچسپ ہے کہ اگر اردو زبان میں اس کی نقل کریں تو اس کے لئے زینت کا موجب ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اناں ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں۔یعنی اندھا ریوڑیاں بانٹے اور بار بار اپنے رشتے داروں کو ہی دے۔جب بھی تبلیغ کرنے کی تحریک کی جاتی ہے ہماری جماعت کے لوگ جھٹ غیر احمدیوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں مگر غیر احمدی بھی غیر ہیں لیکن پھر بھی ان سے اشتراک کے موجبات موجود ہیں اور بہت بڑے موجبات ہیں۔غیریت کے موجبات بھی ہیں اور بہت بڑے موجبات ہیں لیکن اشتراک کے موجبات بھی بہت اہم ہیں اور ان